حمل کے دوران صرف 1 باریہ وظیفہ کریں

آج آپ کےلیے بہت زیادہ زبردست عمل لے کرآئے ہیں۔ یقین کریں ! جو خواتین پریشان ہیں ۔ جو اولا د نرینہ کے لیے پریشان ہیں ۔ ان کےگھر اولا دنرینہ نہیں ہورہا ہے۔ ہر بار بیٹی پیدا ہوجاتی ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بیٹیاں بری ہوتی ہیں۔ بلکہ بیٹیاں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت ہوتی ہیں۔ اور کئی لوگوں کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے گھر بیٹا ہو۔ کیونکہ ہم میں بعض ایسی خواتین ہوتی ہیں۔ جن کی یہ خواہش ہوتی ہے ان کےگھر اولا د نرینہ ہو۔ بہت سی ایسی خواتین ہوتی ہیں جو شادی کےبعد اپنے سسرال جاتی ہیں ان کے لیے شاید یہ کہہ لیں ا ن کی عز ت پر ہوتا ہے۔ کہ ان کی عزت بڑ ھ جائے۔

ہمیں اللہ تعالیٰ اولا د نرینہ عطا کردے۔ یہ ان بہنوں کے لیے ہے۔ جو سسرا ل میں جارہے ہیں۔ جو چارہی ہیں وہ اپنی خاوند کی نظر میں ان کی عزت بڑھ جائے۔ ان کی ساس ، نند ، گھر والوں کی نظر میں عزت بڑھ جائے۔ سب کی نظر میں عزت بڑھ جائے ۔ کیونکہ اولا د دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ایک قرآن پاک کی آیت میں ہے فرمایا ہے: اللہ جسے چاہے بیٹیاں عطا کرے۔ جسے چاہے بیٹے عطا کرے۔ اور جسے چاہے بیٹیاں اور بیٹے عطا کرے ۔

اور جسے چاہے کچھ بھی عطا نہ کرے ۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہوتاہے۔ یعنی انسان اپنی خواہش اللہ کےسامنے کرے۔ اللہ تعالیٰ ضرور قبول کرتا ہے۔ آپ کو وظیفہ کے بارے میں بتاتے ہیں۔ آپ نے حمل کے شروع میں اس وظیفہ کو کرلینا ہے ۔ یقین کریں! کہ آپ کو لکھ کر دیتے ہیں اللہ کے کرم سے !اولاد نرینہ ضرور ہوتی ہے۔ اس وظیفے میں بہت زیادہ اثر ہے۔ وظیفہ کس طرح سے کس طرح کرنا ہے؟ سب سے پہلے آپ کسی چیز کو صدقہ دے دیں۔ چاہے سفید چیز کا صدقہ دے دیں۔ کالی چیز کا صدقہ دے دیں۔

اس عمل کرنےسےپہلے صدقہ دے دیں۔ کوئی آپ کو بہتر لگے ۔ جوآپ کو بہتر محسوس ہو آپ صدقہ دےدیں۔ اس کےبعد آپ نے وظیفہ کیا کرنا ہے؟ وظیفہ کچھ اس طرح سے کرنا ہے؟ کہ آپ نے اکتالیس مرتبہ ” لاالہ الا اللہ” پڑھ لینا ہے۔ آپ نے شہادت کی انگلی سے داہنی پسلی پر آپ نے اکتا لیس مرتبہ یہ تصور کرتے ہوئے آپ کےہاتھ میں پینسل ہے۔ آپ نےشہادت کی انگلی سے داہنی پسلی ” لا الہ الا اللہ ” یہاں تک آپ نے اس آیت کو لکھنا ہے۔ داہنی پسلی پر لکھنا ہے۔

اس میں زیر زبر ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس آپ نے “لاالہ الا اللہ ” لکھنا ہے۔ ایک بار آپ نے یہ عمل کرناہے۔ باربار اس عمل کو نہیں کرنا۔ صرف اور صرف ایک بار کرنا ہے۔ جو خواتین حمل کے شروع میں یا درکھیں ! آپ نے اس وظیفے کو حمل کےشروع میں کرنا ہے۔ کئی خواتین ہوتی ہیں کہ وہ حمل کے چوتھے ماہ کرلیتی ہیں۔ چھ ماہ کرلیتی ہیں۔

یہ وظیفہ آ پ نے شروع میں کرنا ہے۔ انشاءاللہ! جوخواتین یہ وظیفہ کرلیتی ہیں۔ نوماہ بعد وہ خود اپنی آنکھوں سے یہ ضرور دیکھتی ہیں اللہ تعالیٰ اسے اولاد نرینہ سے ضرور نوازتا ہے۔ یہ وظیفہ کی الگ سے تفسیر ہے۔ اس میں الگ سی طاقت ہے۔ یقین کریں ! اگر خواتین کرلیتی ہیں ۔ دل سے خواہش کرتی ہیں۔ کہ ان کے ہاں اولا دنرینہ ہو تو وہ ایک بار کرلیتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور اولا دنرینہ سے نوازتا ہے۔