بیوی کو معاف کرنے پر بندے کی بخشش

حضرت اقدس تھانوی رحمةالله نے آج کے حالات کے بالکل مطابق ایک واقعہ نقل فرمایا ہے ۔ایک آدمی کی بیوی سے بہت بڑی غلطی ہوگئی ،اگر یہ آدمی چاہتا تو اس کو طلاق دے دیتا۔لیکن اس نے اس کو اللہ کی ایک بندی سمجھ کر معاف کردیا ۔کچھ عرصہ میں ہی اس آدمی کا انتقال ہوگیا ۔

کسی نے اسے خواب میں دیکھا تو اس سے پوچھا سناؤ!آگے کیا بنا ؟کہنے لگا کہ بس اللہ تعالیٰ نےمجھ پر مہربانی فرمادی اور میری بخشش فرمادی ۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تونے بیوی کی غلطی پر اسے طلاق نہیں دی میری بندی سمجھ کر معاف کردیا،میں تجھے اپنا بندہ سمجھ کر معاف کردیتاہوں ۔

اس میں زیر زبر ڈالنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ بس آپ نے “لاالہ الا اللہ ” لکھنا ہے۔ ایک بار آپ نے یہ عمل کرناہے۔ باربار اس عمل کو نہیں کرنا۔ صرف اور صرف ایک بار کرنا ہے۔ جو خواتین حمل کے شروع میں یا درکھیں ! آپ نے اس وظیفے کو حمل کےشروع میں کرنا ہے۔ کئی خواتین ہوتی ہیں کہ وہ حمل کے چوتھے ماہ کرلیتی ہیں۔ چھ ماہ کرلیتی ہیں۔ یہ وظیفہ آ پ نے شروع میں کرنا ہے۔

انشاءاللہ! جوخواتین یہ وظیفہ کرلیتی ہیں۔ نوماہ بعد وہ خود اپنی آنکھوں سے یہ ضرور دیکھتی ہیں اللہ تعالیٰ اسے اولاد نرینہ سے ضرور نوازتا ہے۔ یہ وظیفہ کی الگ سے تفسیر ہے۔ اس میں الگ سی طاقت ہے۔ یقین کریں ! اگر خواتین کرلیتی ہیں ۔ دل سے خواہش کرتی ہیں۔ کہ ان کے ہاں اولا دنرینہ ہو تو وہ ایک بار کرلیتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کو ضرور اولا دنرینہ سے نوازتا ہے۔