اگرآپ کا تولیہ بھی چند مرتبہ دھونےکے بعد سخت ہوجاتا ہے

تولیہ ملبوسات کی نسبت بہت جلدی گندے ہوجاتے ہیں۔ اور انہیں جلد دھونا پڑتا ہے جس سے بتدریج ان کی نرمی ختم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اب طبی ماہرین نے انکشاف کیا ہے دراصل یہ نرمی تولیے کو غلط طریقے سے دھونےکی وجہ ختم ہوتی ہے۔ اسے درست طریقے سے جتنی مرتبہ بھی دھویا جائے ۔ اس کی نرمی برقرار رہے گی۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگ عموماً تولیے دھونےکےلیے گرم پانی استعمال کرتے ہیں جو کہ سراسر غلط عمل ہے۔

تولیے کو ہمیشہ نارمل پانی سے دھونا چاہیے ۔ اور اسے دھونےکےلیے کبھی بھی اندازے سے واشنگ پاؤڈر استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ تولیے دھونے میں جتنا زیادہ پاؤڈر استعمال ہوگا۔ اس کی صفائی اتنی ہی خراب ہوگی۔ اور نرمی میں متاثر ہوگی۔ اس لیے واشنگ پاؤڈر پیکٹ پر دی گئی مقدار کے مطابق پاؤڈر استعمال کرنا چاہیے۔

اسی طرح بعض لوگ تولیے دھونے میں فائبرک سوفٹنر کااستعمال بھی کرتے ہیں۔ اور سمجھتےہیں کہ کپڑے کو نرم کرنے والے اس پاؤڈر سے تولیہ نرم رہے گا۔ حالانکہ فائبرک سوفٹنر میں موجود کیمیکل اس کے برعکس کام کرتے ہیں۔ اور جتنی بار یہ تولیے کو لگیں گے ۔ اتنا ہی اسے سخت کرتے جائیں گے۔ چنانچہ تولیے دھونے میں کبھی بھی فائبرک سوفٹنر کا استعمال نہ کریں۔ اس کے بجائے تولیے کو نرم کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اسے دھوتے ہوئے مشین میں ایک ٹینس بال ڈال دی جائے ۔

یہ بال مشین میں فائبرک سوفٹنر کا کام کرے گی۔ جس سے تولیے کے ریشے کھڑے ہوجائیں گے۔ اس کے علاوہ تولیے کو خشک کرتے ہوئے لوگ غلطی کرتے ہیں۔ اسے دیگر کپڑوں کی طرح ڈرائیر میں ڈالتے اور مکمل خشک ہونے کے بعد ہی نکالتے ہیں۔

حالانکہ تولیے کو انتہائی کم درجہ حرارت پر سکھانا چاہیے۔ اور ابھی اس کی نرمی باقی ہو۔ تو اس کو ڈرائیر سے نکال کر باقی نمی کھلی ہوا میں سکھانی چاہیے۔ ہر بار جب ہم تولیے استعمال کرتے ہیں۔ تو اس پر ہماری مردہ جلد لگ جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ جراثیموں اور بیکٹیریاز کی آمجگاہ بن جاتا ہے۔

چنانچہ تولیے کو ہر دودن بعد یا کم ازکم ہفتے میں ایک مرتبہ لازمی دھولینا چاہیے۔ اگر آپ تولیے کو ناخوشگوار بدبو سے بچانا چاہتے ہیں۔ تو اس کو دھوتے ہوئےپانی میں آدھا کپ بیکنگ پاؤڈر ڈال دیں۔ اس سے بھی تولیہ صاف ہوجائےگا۔