کیا سورۃ فاتحہ چھوڑ سکتے ہیں نماز میں

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ چاررکعت والے فرض کی تیسری اورچوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھناواجب ہےیانہیں؟کیاخاموش بھی رہ سکتے ہیں؟ فرض نمازکی تیسری اورچوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھناافضل ہے،واجب نہیں اورتین بارسبحان اللہ کہنایااتنی مقدارخاموش کھڑارہنابھی جائزہے،لیکن تسبیح پڑھناخاموش رہنے سے بہترہے۔چنانچہ فرض کی تیسری اورچوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں صحیح بخاری میں ہے۔

بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم ظہر کی پہلی دورکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دوسورتیں تلاوت فرماتے تھے اور آخری دورکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ تلاوت فرماتے تھے ۔ اورفرض کی آخری دورکعتوں میں کچھ بھی نہ پڑھنے کے بارے میں مؤطاامام مالک میں ہے۔

بے شک عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ امام کے پیچھے جہری اور خفی دونوں نمازوںمیں پہلی دو رکعتوں اورآخری دورکعتوں میں قراء ت نہیں کرتے تھے اور جب تنہا نماز پڑھتے تو پہلی دورکعتوں میں سورہ فاتحہ اورساتھ میں سورت کی قراء ت کرتے تھے اورآخری دورکعتوں میں کچھ نہیں پڑھتے تھے ۔مصنف عبد الزراق میں ہےعبید اللہ بن ابی رافع رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ظہراور عصر کی پہلی دورکعت میں سورہ فاتحہ اور ساتھ میں سورت کی قراء ت کرتے تھے اور آخری رکعتوں میں کچھ نہیں پڑھتے تھے ۔

مصنف عبد الرزاق میں حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ( فرض کی )آخری دو رکعتوں میں ایک حرف بھی نہ پڑھتے تھے۔اورفرض کی تیسری اورچوتھی رکعت میں تسبیح پڑھنے کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایاکہ (نمازی )پہلی دورکعتوں میں قراء ت کرے اورآخری دورکعتوں میں تسبیح کرے۔درمختار میں ہےچاررکعت فرض پڑھنے والے کے لیے پہلی دو رکعت کے بعد سورہ فاتحہ پڑھناکافی ہےاوریہ بظاہرسنت بھی ہےاوراگرسورہ فاتحہ کے ساتھ سورت بھی ملالی توکوئی حرج نہیں اورنمازی کوسورہ فاتحہ پڑھنے اور تین مرتبہ تسبیح کہنے اوراس مقدار چپ رہنے میں اختیار ہے۔