یا قھارُ جادوگروں کو ذلیل کرنے کے لیے یا قھارُ کا خاص وظیفہ۔

جادو کو جادو اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس کے اسباب مخفی (چھپے ) ہوتے ہیں اور اس لئے کہ جادوگر ایسی پوشیدہ اشیاء سے کام لیتے ہیں جن کی بنا پر لوگوں پر خیال واثر اورعمل و حقیقت کو چھپانے اور ان کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہو سکیں ، انہیں نقصان پہنچا کر ان کے مال وغیرہ کو چھین سکیں ۔وہ ایسے طریقے استعمال کرتے ہیں جو کہ عام طور پر سمجھ میں نہیں آ سکتے اور اسی لئے رات کے آخری حصہ کو سحر کہتے ہیں

کیونکہ اس میں لوگ غفلت میں اور حرکت میں کمی ہوتی ہے اور پھپھڑے کو بھی سحر کہتے ہیں کیونکہ یہ جسم کے اندر چھپا ہوا ہوتا ہے۔ اسکا شرعی طور پر معنی یہ ہے کہ جو جادوگر لوگوں پر خلط ملط کرتے ہیں اور انہیں تخیل پیش کرتے ہیں تو اسے دیکھنے والا حقیقت تصور کرتا ہے حالانکہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا –

جیسا کہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے ”کہنے لگے اے موسٰی یا تو تُو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ۔جواب دیا کہ نہیں تم ہی پہلے ڈالو اب تو موسی علیہ السلام کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے بھاگ دوڑ رہی ہیں۔ پس موسٰی نے اپنے دل میں ڈر محسوس کیا ۔ہم نے فرمایا خوف نہ کر یقیناً تو ہی غالب اور برتر رہے گا اور تیرے دائیں ہاتھ میں جو ہے اسے ڈال دے کہ ان کی تمام کاریگری کو وہ نگل جائے ۔

انہوں نے جو کچھ بنایا ہے صرف یہ جادوگروں کے کرتب ہیں اور جادوگر کہیں سے بھی کامیاب نہیں ہوتا “بعض اوقات جادوگر ایسی گرہیں لگا کر جادو کرتے ہیں کہ ان گرہوں میں پھونکیں مارتے ہیں – جیسا کہ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے” اور گرہیں ( لگا کر ان ) میں پھونک مارنے والیوں کی شر سے “جادو گر کبھی دوسرے اعمال کے ساتھ جادو کرتے ہیں

جن تک پہنچنے کے لئے شیطانوں کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور ایسا عمل کرتے ہیں کہ جس سے انسان کی عقل میں تغیر آ جاتا ہے اور بعض اوقات یہ عمل مرض کا باعث بنتے ہیں ۔ یا پھر بعض اوقات خاوند اور بیوی کے درمیان جدائی کا سبب بنتا ہے جس کی بنا پر اس کی بیوی اس کے سامنے قبیح الشکل ہو جاتی ہے جس سے وہ اسے ناپسند کرنا شروع کر دیتا ہے اور اسی طرح بیوی کے ساتھ بھی جادوگر یہی عمل کرتا ہے تو وہ اپنے خاوند سے نفرت اور بغض کرنے لگتی ہے –

یہ عمل نص قرآنی کے مطابق صریحاً کفر ہے۔ اور اس کے علاوہ میں آپ کو ایک عمل بتانے لگا ہوں کہ جس کو کرنے سے آپ کا یہ مسئلہ حل ہو جا ئے گا اور وہ عمل ہے یا قھارُ کا۔ اگر آپ اس عمل کو کر لیتے ہیں تو آپ کا کوئی بھی د ش م ن آپ کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتا۔ آپ نے مغرب کی نماز کے بعد ایک ہزار مر تبہ یا قھارُ کی تسبیح کر نی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پھر گھر میں بیٹھ کر دعا بھی مانگنی ہے۔

Leave a Comment