ساری عمر تہجد پڑھنے والی لڑکی بھی اگر یہ کام کر تی ہو گی۔ تو جنت دور کی بات جنت کی خوشبو بھی نہیں لے سکے گی

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے کہ جب کوئی قوم یہ پانچ کام کر تی ہے تو اس پر پانچ ع زاب مسلط کر دئیے جا تے ہیں یعنی پانچ کے بدلے میں ان پر پانچ چیزیں مسلط کر دی جا تی ہیں وہ کون سے پانچ کام ہیں جن کی وجہ سے ع ز ا ب مسلط کر دیا جا تا ہے اگر آپ یہ جا ننا چاہتے ہیں کہ آپ سے گزارش ہے کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا تا کہ ان باتوں کو بہت ہی اچھے سے سمجھ سکیں۔

اور بہت ہی زیادہ فائدہ اٹھا سکیں۔پانچ کام کےبارے میں یہ حدیث روایت کی گئی ہے ان میں سے پہلا کام یہ ہے کہ جب کوئی قوم عہد کو توڑ دیتی ہے تو پھر ان کا د ش م ن ان پر مسلط کر دیا جا تا ہے کیا آپ یہ نہیں جا نتے کہ وعدہ خلافی یعنی عہد کو توڑنا کیا ہے ؟ کیا یہ ہماری عادت نہیں بن چکی؟ اس چیز کی تو ہم پرواہ ہی نہیں کر تے جب کہ ایک بار حضور ﷺ نے عہد کی میں تمہارے آ نے تک یہیں کھڑا ہوں وہ شخص تو بھول گیا

لیکن آپ ﷺ وہیں کھڑے رہے حتیٰ کہ تین دن تک وہیں کھڑے رہے اور جب وہ شخص تین دن کے بعد پلٹ کر آیا تو اس نے حضور ﷺ کو دیکھا تو سخت شرم سار ہوا آپ ﷺ صرف نماز کے لیے یا قضائے حاجت کے لیے جا تے تھے۔لیکن پھر وہیں آ کر کھڑے ہو جا تے کیونکہ آپ ﷺ نے وعدہ کیا ہوا تھا کہ میں تیرے آ نے تک یہیں کھڑا رہوں گا تو جب وہ شخص آ یا تو آپ نے اس شخص سے فر ما یا جس کا مفہوم یہ ہے کہ تم نے تو مجھے بڑی مشقت میں ڈال دیا تو اگر ہم آج کے دور میں اپنے معا ملات کو دیکھتے ہیں تو کیا ہم عہد کی پا بندی کر تے ہیں ؟

کیا ہم اپنے کیے گئے وعدوں پر پورا اترتے ہیں جب کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو اس کا جو د ش م ن ہو تا ہے وہ اس پر حاوی ہو جا تا ہے اس کے بعد دوسرا کام یہ ہے۔کہ جب کوئی اللہ کے نازل کردہ احکام کے بغیر کسی اور کے حکم سے فیصلے کر تے ہیں تو ان کے اوپر فقر مسلط کر دی جا تی ہے اللہ نے جو ہمیں ضابطہ دیا ہے اگر ہم اس سے ہٹ کر کسی اور راستے کو اختیار کر یں گے تو ہم پر فقر و تنگ دستی مسلط کر دی جا ئے گی

دولت کی کثرت کے باوجود بھی فقر و فاقہ موجود رہے گا تیسرا کام یہ ہے کہ جب کسی قوم کے اندر فحاشی اور بے حیائی پھیل جا ئے تو اس قوم میں طاعون جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور اسی بیماریاں جو لا علاج ہوں وہ جنم لیتی ہیں۔