لباس بدلتے وقت یہ کلمات پڑھنےسے گن اہ مع اف

میں اور آپ روزانہ ہی لباس بدلتے ہیں۔صبح اور شام میں کچھ لوگ دو دو بدلتے ہوں گے۔ آپ صرف لباس بدلتے وقت یہ کہہ دیں۔ ” الحمداللہ الذی کسانی ھذا لثواب ورزقنیہ من غیر حول منی ولا قوۃ” ۔ میری ضرورت بھی پوری ہوگئی ۔ اور میرے گن اہوں کو بھی اللہ نے صاف کردیا ہے۔ یہ طریقے ہیں۔ جس سے آپ اپنے گن اہوں کو مع اف کرواسکتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کے ہاتھ میں سو نے کی انگوٹھی دیکھی ۔ آپ ﷺ نے اس کو اتارکر پھینک دیا اور فر مایا تم میں سے کو ئی شخص آگ کے انگا رہ کو اپنے ہاتھ میں لینے کا ارادہ کیوں کر تاہے ؟ رسول اکر م ﷺ کے تشریف لے جانے کے بعد اس شخص سے کہا گیا جاؤ اپنی انگو ٹھی اٹھالو اور اس سے نفع حاصل کرو ۔

اس نے کہا اللہ کی قسم جس چیز کورسول اکر م ﷺ نے (نا راضگی کی صورت میں ) پھینک دیا ہوا اس کو میں کبھی بھی نہیں اٹھاؤں گا۔حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایاجہنمیوں کی 2 ایسی قسمیں ہیں جن سے بد بخت میں نے کسی کو نہیں پایا ۔ایک وہ لوگ ہیں جن کے بیلوں کی دم کی طرح کوڑے ہیں جن سے وہ لو گوں کو مارتے ہیں ۔ دوسری وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود عریاں ہو نگی ۔

وہ راہ حق سے ہٹانے والی اور خود بھی ہٹی ہوئی ہو نگی ان کے سر بختی اونٹوں کی طرح ایک طرف جھکے ہوئے ہو ں گے۔ وہ نہ تو جنت میں داخل ہو نگی اور نہ ہی جنت کی خو شبو پائیں گی جب کہ جنت کی خو شبو اتنی اتنی ( بہت زیادہ ) مسا فت سے آتی ہے ۔حضرت عبدا للہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ جب حروی ( خوارج کا ایک گروہ ) کا فتنہ ظاہر ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس میں آیا پس انہوں نے ( علیؓ ) نے کہا .ان لو گوں کے پاس جاؤ۔ پس میں نے جس قدر ممکن تھا یمنی جو ڑوں میں سے بہترین جو ڑا زیب تن کیا ۔

( ابوز میل بیا ن کر تے ہیں کہ ابن عباسؓ خوبصورت اور حسین و جمیل تھے ) ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں میں ان ( حرو یوں ) کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے خوش آمدید کہتے ہو ئے کہا اے ابن عباس ! یہ جوڑا کیسا ہے ؟انہوں( ابن عباسؓ ) نے کہا تم مجھ پر کیا عیب لگاتے ہو ؟میں نے تو رسول اللہ ﷺ کو بہترین جو ڑا زیب تن کئے ہو ئے دیکھا ہے ۔حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں رسول اللہ ﷺ کو دھاری دار ریشمی جوڑا بطور ہد یہ ملا توآپ ﷺ نے اسے میری طرف بھیج دیا۔

پس میں نے اسے پہن لیا جب میں آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو اتو میں نے آپ ﷺ کے چہرہ انور پر غصہ و ناراضی کے آثار دیکھے ، پس آپ ﷺ نے فر مایا میں نے اسے تمہارے پہننے کے لیے تو نہیں بھیجا تھا ، پس آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا تو میں اسے اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا ۔

Leave a Comment