عورت اگر ان کو زبان سے چاٹ لے تب بھی شوہر کا حق ادا نہیں کر سکتی۔ حدیثِ نبوی ﷺ

سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے ۔ کہ نبی کر یم ﷺ نے فر ما یا : کسی بشر کے لیے اجازت نہیں کہ وہ دوسرے بشر کو سجدہ کر ے اگر ایک انسان کا دوسرے انسان کو سجدہ کر نا مناسب ہو تا تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کر ے۔ کیونکہ اس پر اس کے خاوند کا بہت بڑا حق ہے۔

اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر خاوند کے پاؤں سے لے کر سر کی مانگ تک پھوڑے نکل آ ئیں اور اس سے لہو اور پیپ بہنا شروع ہو جا ئے اور اس کی بیوی آ کر اس کو چاٹنا شروع کر دے ۔ تو پھر بھی وہ اپنے شوہر کا حق ادا نہیں کر سکے گی۔ حضور نے فر ما یا اللہ اس شخص کے چہر ے کو تروتازہ رکھے جس نے میرے سے کوئی حدیث سنی اور ویسے ہی آگے پہنچا دی۔

اور پھر بعد میں رونا رویا جاتا ہے۔جو بے سود ہوتا ہے اسی لئے ضروری ہے کہ بیٹے کو سات سال سے اوپر ہونے پر باپ کے ساتھ تو سلایا جاسکتا ہے لیکن ماں اپنے پاس نہ سلائے اور بیٹی ماں کے ساتھ تو سو سکتی ہے لیکن باپ کے ساتھ نہ سوئے آج کل رشتوں میں پہلے تو بے تکلفیاں اختیار کی جاتی ہیں اور ان بے تکلفیوں کو برانہیں جاناجاتا جو بعد میں اس حد تک چلے جاتے ہیں

کہ پھر مولوی اور مفتی حضرات کے پیچھے گھومتے پھرتے ہیں کہ ایسی صورت ہوگئی ہے اب کیا کریں کوئی راستہ نکایں خدارا احکام شریعت کو سیکھیں ان کو وقعت دیں ان کے مطابق زندگی بسر کریں تا کہ ہمارے گھروں میں کوئی ایسی نوبت نہ آنے پائے شریعت نے اس لئے یہ احکام صادر کئے ہیں کہ دو مخالف جنس ایک جگہ اکٹھے نہ رہیں کیونکہ جب دو مخالف جنس ایک جگہ اکٹھے ہوتےہیں

تو تیسرا شیطان ہوتا ہے شیطان پھر ان کے درمیان وساوس ڈال دیتاہےکیونکہ اس کا کام ہی گمراہی کی طرف لے کر جانا ہے لہٰذا شیطان کے چنگل سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو ایسے حالات و واقعات سے بچائیں جس میں شیطان ہم پر حاوی ہوسکتا ہے ۔

ایک اور رشتہ جس میں احتیاط کی ضرورت ہے وہ ہے ساس اور داماد کا نکاح کے بعد بیوی کی ماں کو بھی ویسے ہی سمجھا جائے جیسے اپنی ماں کو سمجھاجاتا ہے اور مردوں کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے رشتہ داروں کو اچھا سلوک رکھے جیسا اس کی بیوی اپنے والدین کا احترام کرتی ہے ویسا ہی برتاؤ وہ بھی اپنی بیوی کے والدین کے ساتھ رہے داماد کو چاہئے کہ جو حد شریعت نے طے کی ہے ان حدود کی پاسداری کرے کیونکہ نکاح صرف بیوی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کی زوجیت کے لئے صرف اس کی بیوی حلال ہوتی ہے

لہٰذا باقی رشتوں کے ساتھ برتاؤ میں ایک مرد کو بڑے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگر خدانخواستہ داماد اور ساس میں کوئی ایسا معاملہ چل پڑے جس کی وجہ سے ان کے تعلقات میں بدنیتی شامل ہوگئے اور ایک دوسرے سے اس طرح سے قریب ہوگئے جس میں شہ وت کا عمل دخل ہوا تو اس مرد کے لئے اس کی بیوی اس کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی۔اسی طرح سسر اور بہو کا رشتہ بھی ہے جس میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔یہ سب رشتے ایسے ہیں جو کہ ہیں تو محرم لیکن ان کی حدود ہیں اب سسر کے لئے حکم ہے کہ بہو کو اپنی بیٹی جیسا سمجھے اس کو بیٹی کا درجہ دے اب جس کو دین کی سمجھ ہو گی اور شریعت کی سمجھ ہو گی تو وہ ان رشتوں میں جو فاصلے طے ہیں ان کی پاسداری کرے گا لیکن جو شرعی حدود سے ناواقف ہوگا وہ ان کی پاسداری نہیں کر پائے گا

اس لئے بعض گھروں میں سسر بہو باامر مجبوری اکثر اوقات اکیلے ہوتے ہیں ان میں اگر خدانخواستہ کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے جو کہ ان کو شہوت کی نیت سے قریب کر دے چاہے کوئی ایک دوسرے کے قریب شہوت کی نیت سے جائے تو اس صورت میں بھی بیوی اپنے شوہر کے لئے حرام ہوجائے گی اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت سب کی حفاظت فرمائے اور ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے اگر کوئی ایسی صورت پیش آجائے تو چاہئے کہ مفتی حضرات سے اس صورت کے بارے پوچھ لیاجائے

کیونکہ وہی بہتر طریقے سے بتا سکیں گے معاملے کی سنگینی کیا ہے اور نکاح ساقط ہو چکا یا نہیں ۔ یہ باتیں آپ کو اسلام کی تعلیمات کے پیش نظر بتائی گئی ہیں اگر کوئی ان کو تنگ نظری کہے تو یہ اس کا قصور ہے کیونکہ ہم دنیاداری میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ ایسی باتیں ہمیں تنگ نظر ی محسوس ہوتی ہیں ۔

Leave a Comment