خبردار ! نظر بد م وت ہے ایک انڈے سے فوری نظراتارنے کا عمل

نظر بد کو مختلف ناموں سے پکارا جاتاہے۔فارسی اسے زخم چشم بھی کہاجاتاہے۔ اور اس کا تصور قدیم زمانے سے مختلف اقوام میں مختلف انداز میں پایا جاتاہے۔ نظر بد کامسئلہ عقلی لحاظ سے ناممکن نہیں ہے۔ کیونکہ آج کے دور میں یہ بات ثابت شدہ حقیقت ہے۔ کہ اگر آنکھوں میں ایک خاص قسم کی مقنا طیسی قوت پر مہارت حاصل کرلی جائے توآدمی اس کے ذریعے دوسروں کےذہن اور خیالات پر اثرانداز ہوسکتا ہے۔

جسے ٹیلی پیتھی یا ہیپنا ٹیزم کا نام دیا جاتا ہے لہٰذا نظر بد کا انکار ممکن نہیں ۔ اور نہ ہی نظر بد کا وجود عقل وعلم کےمنافی ہے۔ ہمارے لیے نظر بد کے حقیقی ہونےکے لیے یہی کافی ہے کہ اس کا وجود قرآن وحدیث سے ثابت ہے۔ اور کئی احادیث بھی موجود ہیں۔ اللہ پاک کی سورت القلم میں اس طرح بیان کیا گیا ہے : بے شک کافر لوگ جب قرآن سنتے ہیں تو ایسے لگتا ہے کہ آپ کو اپنی نظروں سے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں

کہتے ہیں کہ یہ تو دیوانہ ہے۔ اس آیت میں نظر بد میں نقصان کی تاثیر ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جو کسی دوسرے انسان کے جسم وجان پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ نظر کا لگ جانا حق ہے ۔ اور آپ ﷺ نے گودنے سے منع فرمایا۔اسی طرح حافظ ابن کثیر سورۃ یوسف کی آیت نمبر ستاسٹھ اور اٹھاسٹھ میں لکھتے ہیں کہ حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں سے کہا تھا کہ شہر میں اس کے مختلف دروازوں سےداخل ہونا ۔

ابن کثیرنے مختلف صحابہ کرام ؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت یعقوب ؑ نے ایسااس لیے کیا کہ انکے بیٹوں کو نظر بد نہ لگے ۔ حضرت عبداللہ بن عبا س ؓ روایت کے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نظر حق ہے اگر کوئی چیز تقدیر کو کاٹ سکتی ہے تو وہ نظر ہے ۔اور جب تم سے غسل کرنے کے لیے کہا جائے تو غسل کرلو۔ انسانی تاریخ ایسے ہزاروں واقعات ملتے ہیں

جن میں انسانی آنکھ کی تخریبی یا منفی اثرات کا ذکر ملتا ہے ۔ یہ واقعات کچھ داستانوں اورکچھ حقائق پر مبنی ہے ۔ انسانی آنکھ سے خارج ہونیوالی منفی قوت یا منفی شعاعوں میں یہ اثر ہے کہ وہ کسی کی زندگی میں بہت مشکلات لانے کا سبب بن سکتی ہیں۔ انسانی آنکھ جب منفی قوت خارج ہوتی ہے تواسے عام اصلاح میں نظر بد کہا جاتا ہے ۔نظر بد کی وجہ سے کوئی بھی انسان بیماری پڑ سکتا ہے۔ اورایک خوش قسمت ترین انسان دنیا کی بدقسمت انسانوں میں شامل ہوجاتا ہے۔

نظر بد کی عمومی وجہ حسد ہوتا ہے۔ یہی و جہ ہے کہ عربی زبان میں نظر بد کو عین الحسو د بھی کہاجاتا ہے۔ حسد ایک ایسی منفی قوت ہے جو دوسروں کی زندگی کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ نظر ایسی منفی شعاعیں خارج کرتی ہے۔ جس سے متاثر ہونے والے انسان کے ارد گرد ہر وقت ایک منفی قوت کا دائرہ بن جاتا ہے۔

نظربد لگانے والا دوسروں کے متعلق بُری سوچ لگتا ہے ۔ ایسا شخص کی آنکھ دوسروں کو روحانی اور جسمانی نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہے ۔ نظر بد کی وجہ ایک خوشحال وکامیاب انسان کی زندگی بدقسمتی ،صحت کے مسائل اور شدید بیماری کا شکار ہوجاتی ہے ۔ کامیابی سے چلنے والا کاروبار بند کرنے کی نوبت ہوجاتی ہے ۔ ایک امیر آدمی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔

آئیے آپ کو وہ عمل بتاتے ہیں کہ جس کے کرنے سے آپ نظر بد کا شکار ہیں یا نہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کو کوئی جسمانی بیماری ہے اور آپ اسے نظر بد سمجھتے ہیں اور آپ اس کا علاج جسمانی بیماری کے لحاظ سے کررہے ہیں۔اس عمل کیلئے آپ کو ایک عدد ایک انڈہ چاہیے ہوگا اور ساتھ سبز دھنیا خشک کیا ہوا اور آپ نے یہ انڈہ لے کر سات جگہ یہ کلمات لکھنے ہیں :” وصلی اللہ علی سیدنا محمد وعلی الہ وصحبہ وسلم تسلیما مدعا کرعا”۔اوراس انڈے کو اپنی ہتھیلی پر رکھ کر

اس کے نیچے دھنیے کی دھونی جلانی ہے ۔ اس دوران آپ نے سورۃ اخلاص پڑھتے رہنا ہے ۔ اور جب آپ کو محسوس ہوکہ انڈہ کھڑا ہونے لگا تو اس انڈے کو توڑ دیں اگر آپ اس میں سرخ نشان دیکھیں تو جان لیں کہ آپ کو نظر بد ہے اور اگر انڈے کے اندر سرخ نقطے یا نشان نہ ہوں تو اس کا مطلب آپ کو نظر بد نہیں بلکہ جسمانی بیماری ہے ۔اگر انڈے میں سرخ نشان پایا جائے ۔ تو اس میں تھوڑی سی زردی نکال کرماتھے پر مالش کرلیں اس کے بعد نظر بد کا اثر جاتا رہے گا۔

اس عمل کے حدیث نبوی میں جو دعائیں منقول ہیں ان کا اہتمام بہت ضروری ہے۔ سسب سے زیادہ بہتر معازتین یعنی سورۃ الناس اور سورۃ فلق کا اہتمام اور دم کیا جائے اس کے ساتھ دعائیں پڑھنیں کا بھی اہتمام کیا جائے ۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ۔ جب نبی پاکﷺ بیمارہوتے تو حضرت جبرائیل ؑ آپ کو دم کرتے اور یہ کلمات کہتے : “بسم اللہ یبرک ومن کل دائم ومن شر حاسد اذا حاسد وشرک کلی ذی عین ” ترجمہ: اللہ کےنام سے وہ آپ کو تندرست کرے گا اورہر بیماری سے شفاء دے گا۔ اور حسد کرنے والے حاسد کے ہر شر سے اور نظرلگانے والی آنکھ کی ہرشے سے آپ کو اپنی پناہ میں رکھےگا۔

Leave a Comment