اگر اپ سچ مچ ہنسنا چاہتے ہیں

اگر آ پ سچ مچ ہنسنا چاہتے ہوتو پھر اپنا درد اٹھانے کے قابل بن جاؤ۔ او ر اس کے ساتھ کھیلنا شروع کردو۔ مشکلات کا پتھر تراشنے کے بعدجو ہیرا نکلتا ہے۔ وہ کامیابی ہے۔ لوگوں کی باتوں کو دل سے لگاناچھوڑ دو گے تو ڈر کا سامنا کرنا سیکھ ہی جاؤ گے ۔ اور اس طرح تمہیں کامیابی ملنے لگے گی۔ میری زندگی میں بہت سے مسائل ہیں۔ مگرمیرے چہرے پر ہروقت مسکراہٹ رہتی ہے۔ مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری والدہ سب سے زیادہ خوبصورت عورت ہیں۔ اس وقت میں نے بہت سارے لوگوں کو دنیا بھر میں دستک دی،

لیکن میں اپنی ماں سے زیادہ بہترعورت سے کبھی نہیں ملا ۔ آج میں جو کچھ بھی ہوں تو یہ سب اس کی وجہ سے ہے۔ ان بے وقوفوں کوآزاد کرانا مشکل ہے۔ جو اپنی زنجیروں کی عزت کرتے ہیں۔ اتنی ٹھوکریں مارنے کا شکریہ

اے زندگی چلنے کا نہ سہی، سنبھلنے کا ہنتر توآہی گیا۔ انسان کی سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ انسان تقدیر سے بہت زیادہ مانگتا ہے۔ او ر وقت سے پہلے چاہتا ہے۔ مشکلات زندگی کا حسن ہیں۔ جو ان پر قابو پالیتاہے۔ وہ زندگی کو بامعنی اور بامقصد بنا لیتا ہے۔ یقین رکھیے ہر رات کے بعد صبح بخشنے والا آزمائشیں ضرور دیتا ہے۔ لیکن آزمائش میں کبھی تنہاء نہیں چھوڑتا، آزمائش تو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کی تربیت کے لیے دیتا ہے۔

اگر تم کبھی کبھی مجھ سے نفرت نہ کرو تو تم مجھے سے ہمیشہ محبت بھی نہیں کرسکتے ۔ انسان اس قسم کی الجھنوں کا مجموعہ ہے۔ جسم داغا جاسکتا ہے لیکن روح نہیں داغی جاسکتی۔ ہرانسان دوسرے انسان کے افعال پرکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ انسان کی فطر ت ہے جسے کوئی بھی حادثہ تبدیل نہیں کرسکتا۔ میں کہتا ہوں اگر مجھے پتھر مارنا ہے

تو ذرا سلیقے سے ماریے۔میں اس آدمی سے ہرگز اپناسر پھڑوانے کے لیے تیار نہیں۔ جسے سر پھوڑنے کا سلیقہ ہی نہیں آتا تو سیکھیں ، دنیا میں رہ کر جہاں آپ نمازیں پڑھنا، روزے رکھنا اور محفلوں میں جانا سیکھتے ہیں۔ وہاں پتھر مارنے کا ڈھنگ بھی سیکھنا چاہیے۔ انسان کو مارنا کچھ نہیں لیکن اس کی فطر ت کو ہلاک کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ طوائف کا کوٹھا اس سے بہترین کوئی اور گھر ہو ہی نہیں سکتا ، بیوی گھریلو اور سگی قسم کی ہوتو اسے گالی نہیں دے سکتا اگر طوائف ہوتو گندی سے گندی گالی بھی اسے دی جاسکتی ہے۔

یہ سماج طوائف کا کوٹھا ہے اور میں منٹو ہوں ۔ نہ پنجابی ہوں ، نہ مہاجر ہوں، نہ سنی ہوں ، نہ شیعہ ہوں ، نہ لبرل ہوں میں منٹو ہوں۔ یہ سماج جیسا ہے مجھے ویسا نظر آتا ہے بیشتر دکان دار جھوٹ بول کر سودا بیچتے ہیں بیشتر خریداروں نے چہرے پر نقاب سجائے ہوئے ہوتے ہیں ۔ انسان بھی کتنا ذلیل ہے یہ اس کے حالات زندگی کتنے افسوس نا ک ہے کہ وہ گراوٹ پر مجبور ہوجاتا ہے۔

Leave a Comment