ہمبستری کرنے لگے تو دعا لازمی ہے اردو میں پڑھیں

جب شوہر اپنی بیوی سے ہمبستری مباشرت کا ارادہ کرے اور بالخصوص شادی کی پہلی رات جسے سہاگ رات بھی کہتے ہیں اور اس کے بعد جب بھی تو شوہر کو چاہیے کہ ان آداب و طریقہ کار کے مطابق عمل کرے ان شاءاللہ شیطان کی دست برد یعنی مداخلت سے محفوظ رہیں گے اور نیک صالح اولاد پیدا ہو گی ↔نماز کے بعد شوہر اپنی دلہن کی پیشانی کے تھوڑے سے بال نرمی اور محبّت سے پکڑ کر یہ دعا پڑھے

* (اللھم انی اسئلک خیرھا وخیر ماجبلتھا علیہ واعوذ بک من شرھا وشر ماجبلتھا علیہ )* *تو نماز اور اس دعا کی برکت سے میاں بیوی کے درمیان محبّت اور الفت قائمہوگی ان شاء اللّه تعالی* *( ابو داؤد ، ص : 293)* اور *دس 10 مرتبہ یا متکبر پڑھے پھر بوس و کنار یعنی چومنا * چاہے تو کہے*

*بسم اللہ العظیم* *اللہ اکبر اللہ اکبر* اور *سورہ اخلاص ایک مرتبہ پوری پڑھے* *(خزینہ رحمت صفحہ 134/135 کیمیائے سعادت)* آج کل نیم حکیموں نے طرح طرح کے غلط تاثرات عوام میں پھیلا رکھے ہیں بعض پرانے نیم حکیموں کے مطابق ایک سال میں ایک بار مباشرت کرنی چاہیے

نیم حکیم تو یہاں تک کہتے ہیں کہ اگر آپ مہینے میں ایک سے زیادہ بات مباشرت کرتے ہیں تو یہ اپنی قبر کھودنے کے مترادف ہے اس بات کا حقیقت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے

کیا آپ نے کبھی سنا ہے کہ کوئی انسان اس لیے مر گیا کیونکہ وہ اپنی بیوی سے ایک ہفتے میں دو بار مباشرت کرتا تھا ؟جی نہیں تو مطلب صاف واضح ہے کے یہ سرا سر عوام کو بیوقوف بنانے اور پیسے بٹورنے کا ایک ذریعہ ہے اور کچھ نہیں میرے اکثر کلائنٹس ایسے ہیں جو ایک دن میں دو دو بار بھی مباشرت کرتے ہیں لیکن وہ بلکل تندرست اور صحتمند ہیں نہ ہی انھے کبھی کوئی بیماری لگی ہے اور نہ ہی کوئی جنسی کمزوری نے انہیں چھوا ہے

مغربی ممالک میں لوگ ہم سے زیادہ مباشرت کرتے ہیں لیکن وہ تو بلکل صحتمند ہوتے ہیں بلکے ہم سے زیادہ صحتمند ہوتے ہیں- جدید سائنس یہ بات ثابت کر چکی ہے جو لوگ کم از کم ایک ہفتے میں دو بار اپنی بیوی سے ہم بستری کرتے ہیں ان کو دوسرے لوگوں کی نسبت موت کا خطرہ پچاسفیصد کم ہوتا ہے جو ایک ماہ میں ایک بار مباشرت کرتے ہیں- ویسے بھی ہمارا مذہب حلال مباشرت کو سکون کا سبب بتاتا ہے تو میرا سوال یہ ہے کہ زیادہ سکون کس طرح سے قابل نقصان ہو سکتا ہے؟

اس کے علاوہ کم از کم ایک ہفتے میں دو بار اپنی بیوی سے ہم بستری کرنے سے مرد مثانے اور پراسٹیٹ کے کینسر سے بھی محفوظ رہتا ہے اور اگر وہ جوانی میں ہفتے میں ایک یا دو بار مباشرت کرنے کا عادی ہوتا ہے تو وہ بڑھاپے میں بھی مباشرت کرنے کے قابل ہوتا ہے

وقفہ مباشرت: ایک جماع سے دوسرے جماع میں وقفہ کتنا ہونا چاہیے جس سے قوت مردانہ میں کمی واقع نہ ہواور جب بھی جماع کیا جائے اس سے حقیقی لطف حاصل ہو حقیقی لطف حاصل ہونے سے مردکی جنسی قوت کمزور نہیں ہوتی اور عورت بھی مطمئین اور خوش رہتی ہے طبی لحاظ 3سے 7 یوم بعد جماع کرنا چاہیے 3 دن سپرمز بنتے ھیں اور 4 دن بعد تحلیل ھوکر جسم کا حصہ بن جاتے ھیں

کیونکہ دن میں دو بار یا روزانہ جماعکرنے سےچند ہی روزمیں شدید کمزوری سستی اور بلڈ پریشر کا لاحق ھوسکتا ھے اور اکثر جوڑوں کاپانی ختم ہو جاتا ہےجوانی میں گوڈے آواز کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس نقصان کی کسی بھی صورت تلافی نہیں ہوسکتی خلاف ورزی کرتے رہنے سے آخرکو افسوس کرنا پڑتا ہے ذیادہ منی کا اخراج بار بار نہیں ہوسکتا

کیونکہ یہ چیزانسانی جسم میں وافر مقدار میں نہیں بنتی طبی لحاظ 4سے 7 یوم بعد جماع کرنےسے جسم میں کسی قسم کیکمی یاں کمزوری نہیں ہوتی اورقدرتی حقیقی لطف حاصل ہوتا ہے تمام ذندگی تک مختلف امراض سے بچا جاسکتا ہے زیادہ ترمرد یہ مانتے ہیں کہ انہیں معلوم ہے کہ کلٹورس کہا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ عورت کی جسم سے بخوبی واقف ہیں، مجھ سے ملنے والے زیادہ تر مردوں نے بتایا کہ جب تک ان کی بیوی کی حساسیت کو بڑھاوا نہیں ملتا تب تک اسے سیکس کے مزہ کا بہتر تجربہ نہیں ہوتا۔

میری مانیں تو یہ کوئی پریشانی نہیں ہے۔ یہ ہمیشہ ضروری نہیں کہ انسان احساس کے بڑھ جانے سے ہی قربت کا تجربہ کرے، جنسی خواہش کا چوٹی تک پہنچنا ضروری ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ اس کے لئے آپ کو نسا راستہ اختیار کرتے ہیں؟ زیادہ تر عورتوں کے ساتھ ایسا ممکن نہیں؟

زیادہ سے زیادہ مرد یہ نہیں جانتے کہ اوپری حصے کو کیسے چھوئیں اور اس کی حساسیت کیا ہے۔ ممکن ہے کہ ایک عورت کو ان حصوں کے چھونے سے لطف اندوز ہو، کسی دوسری عورت کو یہ ذرا بھی لطف اندوزی نہ پہنچائے۔ کچھ معاملوں میں تو الٹے درد کا تجربہ ہوتا ہے۔ کئی عورتیں ایسی ہیں جنہیں سیدھےطور پر سیکس پسند ہے۔ عورت کو کیسا سیکس پسند ہے، وہ آپ ان کی مرضی کو جان کر ہی طے کریں۔

عورت اور مرد، دونوں میں جنس احساس یکساں ہوتی ہے عورت اور مرد دونوں کو سیکس سے حاصل ہونے والے لطف کا احساس مختلف ہوتا ہے. عورت کے ساتھ جماع کے دوران جب مرد کا عضو تناسل جب داخل کرتا ہے تب عورت جس لطف کا تجربہکرتی ہے، اس کے بارے میں زیادہ تر مرد انجان ہوتے ہیں۔ مردوں کو اس بات کا پتہ ہی نہیں لگتا کہ اس دوران عورت کیسا تجربہ کر رہی ہوتی ہے۔ زیادہ تر عورتوں کا عضو کے اندر کے مقابلے باہری حصہ زیادہ حساس ہوتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اندر عورت کے اس حصے میں زیادہ اندر داخلہ عورت کو زیادہ لطف نہ بھی دے۔

یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ عضو تناسل زیادہ لمبا ہونے کی وجہ سے بعض معاملات میں خاتون کے پیٹ میں چوٹ لگتی ہے، اس لئے اسے درد کا تجربہ ہوتا ہے۔ مرد جانتے ہیں کہ عورت کو کیا چاہئے؟ کسی اور عورت کے ساتھ ماضی میں ہوئے تجربوں کی بنیاد پر مرد ایسا مان کر چلتے ہیں کہ سیکس کے دوران عورت کو کس بات سے لطف آئے گا اور اسے کیا چاہئے؟

مردوں کی یہی سب سے بڑی بھول ہے۔ ہر عورت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ آپ اپنے تجربے کی بنیاد پر کچھ اندازہ لگا رہے ہیں، یہ ٹھیک ہے، لیکن آپ کااندازہ ہر بار صحیح ہو یہ ضروری نہیں ہے۔ یہ مان کر نہ چلیں کہ جو معیار پہلی عورت میں کارگر ثابت ہوئے وہ دیگر عورتوں میں بھی صحیح ثابت ہوں گے۔ کیس معلوم ہے کہ آیا عورت مطمئن ہوئی یا نہیں؟

یہ جنسی لطف اندوزی کا تجربہ کرنے جیسی بات ہے، اسے بیان نہیں کیا جاسکتا ہے، یہ تبھی معلوم ہوسکتا ہے جب آپ خود تجربہ کرتے ہیں۔ آپ کی ساتھی کو سیکس کے دوران زیادہ لطف آیا کہ نہیں یہ جاننے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آپ اس سے اس موضوع پر کھل کر بات کریں۔ آپسی تعلقات اتنا بہترہو کہ وہ کھل کر اپنے جذبات اور خواہش کا اظہار کرسکیں۔

آپ اپنے ساتھی کو اس بات کا یقین دلا سکیں کہ یہ سیکس صرف آپ کی خوشی کے لئے نہیں ہے، آپ کے ساتھی کی خوشی بھی بہت اہم ہے۔ (گیلا پن (نمی کچھ معاملوں میں عورت کی عضو میں گیلا پن (نمی) کی وجہ سے مرد فکر مند ہوجاتے ہیں۔ یہ کوئی فکر کی بات نہیں ہے۔ ایک غلط سوچ ہے کہ جب آپ سیکس کے لئے تیار ہو تب گیلا پن ہونا ہی چاہئے۔ ہر ایک عورت میں گیلا پن کی مقدار الگ الگ ہوسکتی ہے۔ گیلے پن ماہانا مدت پر منحصر ہے۔ اس کے علاوہ اندرونی حصہ میں انفکیشن، تناو اور کسی بیماری کی وجہ سے بھی نمی آسکتی ہے۔

خاموشی سب سے زیادہ موثر زیادہ تر لوگ سوچتے ہیں کہ سیکس کے دوران چپ رہنا چاہئے۔ حقیقت کچھ مختلف ہے، جب تک آپ پارٹنر کے ساتھ بات چیت نہیں کریں گے جب تک آپ کوکیسے پتہ کہ آپ کے ساتھی کو کیا کرنا ہے؟

سیکس کی لطف اندوزی کے لئے اگر آپ کا ساتھی آزادانہ طور پر نہیں بولتا یا جنسی کی خوشی کے لئے اپنی خواہشات کا اظہار کرتا ہے تو آپ کو جوش کیسے آئے گا؟ اپنے ساتھی سے کھلے طور پر پوچھیں۔ آپ کیا چاہتے ہیں؟ آپ کیا پسند کرتے ہیں؟ اس پر کھل کر بات کرنا بہت اہم ہے