جوان ہونے کا بیان اردو میں

مسئلہ۔ جب کسی لڑکی کو حیض آ گیا یا ابھی تک کوئی حیض تو نہیں آیا لیکن اس کے پیٹ رہ آ گیا یا پیٹ بھی نہیں آرہا لیکن خواب میں مرد سے صحبت کراتے دیکھا اور اس سے مزہ آیا اور منی نکل آئی۔ ان تینوں صورتوں میں وہ جوان ہو گئی۔

روزہ نماز وغیرہ شریعت کے سب حکم احکام اس پر لگائے جائیں گے اور اگر ان تینوں باتوں میں سے کوئی بات نہیں پائی گئی لیکن اس کی عمر پورے پندرہ برس کی ہو چکی ہے تب بھی وہ جوان سمجھی جائے گی اور جو حکم ان پر لگائے جاتے ہیں اب اس پر لگائے جائیں گے۔

مسئلہ۔ جوان ہونے کو شریعت میں بالغ ہونا کہتے ہیں۔ نو.برس سے پہلے کوئی عورت جوان نہیں ہو سکتی۔ اگر اس کو خون بھی آئے تو وہ حیض نہیں ہے بلکہ استحاضہ ہے جس کا حکم اوپر بیان ہو چکا ہے۔ حائضہ عورت کا لباس پاک ہوتا ہے یا ناپاک؟

جواب: ایامِ حیض میں عورت کے ہاتھ، پاؤں، منہ اور پہنے ہوئے کپڑے پاک ہوتے ہیں بشرطیکہ خشک ہوں۔ البتہ جس جگہ، بدن یا کپڑے پر خون لگ جائے وہ جگہ ناپاک ہو جاتی ہے۔ اس کو دھو کر پاک کرنا ضروری ہے۔ حائضہ عورت کے ساتھ دوسری عورتوں کا، اس کی اولاد کا، اس کے محرموں کا اٹھنا بیٹھنا منع نہیں یہ یہودیوں اور ہندوؤں میں دستور ہے کہ حیض والی عورت کو اچھوت بنا کر چھوڑ دیتے ہیں کہ نہ وہ کسی برتن کو ہاتھ لگائے نہ وہ کسی کپڑے کو چھوئے۔

شریعت اسلامیہ میں ایسا نہیں ہے۔

اسلام نے عورت کو بلند مقام دیا ہے۔ حضرت اسماء بنت ابوبکر رضی اﷲ عنہما نے فرمایا کہ ایک عورت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض گذار ہوئیں : یا رسول اﷲ! جب ہم میں سے کسی کے کپڑے کو حیض کا خون لگ جائے تو کیا کرے؟

فرمایا : جب تم میں سے کسی کے کپڑے پر حیض کا خون لگ جائے تو اسے کھرچ دے پھر اسے پانی سے دھو دے اور پھر نماز پڑھ لے۔‘‘ امام ابن عابدین شامی بیان کرتے ہیں : ’’حیض والی عورت کا کھانا پکانا، اس کے چھوئے ہوئے آٹے اور پانی وغیرہ کو استعمال کرنا مکروہ نہیں ہے۔ اس کے بستر کو علیحدہ نہ کیا جائے کیونکہ یہ یہودیوں کے فعل کے مشابہ ہے