”یہ وظیفہ صرف قرض دار لوگوں کے لئے ہے ،رب کعبہ کی قسم پہاڑ برابر قرضہ بھی ہو۔۔۔۔؟“

قرض کے بارے حکم ہے کہ مرنے سے پہلے ادا کرنا چاہئے یا معاف ہوجائے تو آخرت میں بار کم ہوجاتا ہے ،بہت سے لوگ قرض ادانہیں کرپاتے تو ان کی اولاد میں بھی اسکی سکت نہیں ہوتی اور متوفی پر قرض واجب کھڑا ہوتا ہے ۔قرض کی ادائیگی کے لئے لوگ قرض لیکر قرض بھی ادا کرتے ہیں لیکن قرض پھر بھی ادا نہیں ہوپاتا ۔اس کے لئے روحانی وظائف بھی پڑھے جاتے ہیں ۔

ایسے تمام احباب جو قرض ادا نہیں کرپاتے کیونکہ ان کے پاس وسائل نہیں ہوتے ،وسائل پیدا ہوبھی جائیں تو اخراجات سر اٹھا لیتے ہیں توایسے تمام حضرات سے کہوں گا کہ وہ ’’مجربات رضویہ ‘‘کا یہ وظیفہ انتہائی خشوع و خضوع سے ادا کریں ۔سورہ بنی اسرائیل کی آیت ایک سو پچاس یادکرلیں ’’وبالحق انزلنہ وبالحق نزل ‘‘درود ابراہیمی اکیس بار پڑھ کر اس دعا کو روزانہ ایک سو ایک بار پڑھا کریں ۔ان شاء اللہ فقیر کو یقین ہے کہ اللہ اس بندے کے سر سے قرض کا بوجھ اتارنے کے لئے اسباب میں فراخی فرمائیں گے ۔

قرض اتارنے کا وظیفہ کیا ہے؟ اس سے پہلے آج کے وظیفے کی جانب بڑھیں۔ ابھی بغیر وقت ضائع کیے بغیر ہم اپنے وظیفے کا بتاتے ہیں۔ آج کا وظیفہ جو ہے۔ وہ بنیادی طور پر دو چیزوں پر مشتمل ہے۔ پہلی چیز جو ہے وہ ہے وظیفہ دوسری چیز ہے وہ دعا ۔ وظیفہ قرآن پاک کی آیت سے ہےاور دعا حدیث شریف سے ہے۔ پہلی ہم اپنی آیت کا ذکر کرتےہیں۔کہ ہم نے کس آیت کب اور کتنی بار ورد کرنا ہے۔

وہ سورت الاعمران کی آیت نمبر 26 ہے۔ سورت الاعمران قرآن پاک کی سورت ہے۔ آپ نے صبح و شام سات سات مرتبہ اس آیت کا ورد کرنا ہے۔ اس کے اول وآخر درود پاک پڑھنا ہے ۔ ترتیب اس طرح ہوگی ۔ صبح کے وقت بہتر ہے۔ کہ آپ نماز فجر کے بعد کریں۔ تو یہ زیادہ افضل ہے۔ آپ نے سب سے پہلے اس کی ترتیب ایسے کرنی ہے۔ کہ آپ نے سب سے پہلے درودپاک پڑھنا ہے۔ درود ابراہیمی پڑھنا ہے۔

آپ نے اول و آخر درود پاک پڑھنا ہے۔آپ نے شروع میں درود پڑھنا ہے۔ اس کےبعد سات مرتبہ سورت الاعمران پڑھنی ہے۔ اس کا آپ نے ورد کرنا ہے۔ اس کی سات مرتبہ تلاوت کرنی ہے۔ پھر آخر میں درود پاک پڑھنا ہے۔ آپ کا یہ وظیفہ اختتام ہوجائے گا۔ اس کےبعد دعا کرنی ہے۔ وہ دعا ہے جب ترمذی شریف کی حدیث شریف ہے۔ یہ حدیث آپ نے پڑھنی ہے۔

اس کا مفہوم بھی بتا تے ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ جب آپ دعا مانگے تو اس کا مطلب اور مفہوم معلوم ہونا چاہیے۔ اَللّٰھُمَّ ا کْفِنِیْ بِحَلاَ لَلکَ عَنْ حَرَا مِکَ وَ اَ غْنِنِیْ بِفَضْلِلک َ عَمَّنْ سِوَا کَ اے اللہ ! تو مجھے اپنی حلال (کردہ چیزوں ) کے ساتھ اپنی حرام (کردہ چیزوں ) سے کافی ہوجا اور مجھے اپنے فضل سے، اپنے سو اہر کسی سے بے نیا ز کردے”۔ اس سے مراد ہے۔ کہ اللہ مجھے تواپنی حلال چیزوں کے پاس کردے۔ اور حرام چیزوں سے دور کردے۔

یعنی جو بھی حرام چیزیں ہیں حرام فعل ہیں یا کھانے پینے میں ہیں۔ اور جو بھی حرام چیزیں اس دنیا میں موجو د ہیں۔ مجھے اس سے کوسوں دور فرمادے۔ اپنے فضل سے مجھے بے نیا ز کردے۔ بے نیا ز کردینے کا مطلب ہے جو انگلش میں اس کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہے۔ وہ سیلف ڈیپینڈ ینٹ ہے۔ یعنی کہ مجھے کسی کا محتا ج نہ کرے۔ میں اپنی ضرورتیں اور حاجتیں خود سے خو د ہی پوری کروں۔

اس حدیث کا مفہوم ہے۔ انتہائی بابرکت دعا ہے جو نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ ترمذی شریف میں آیا ہے۔ اس کو وظیفے کے بعد دعا مانگنی ہے۔ انشاءاللہ آپ کا قرض ہے۔ جتنا بھی قرض ہے آپ کی جو بھی حاجت ہے۔ وہ اللہ پا ک اس کو پور ی فرمائے گا۔ اللہ پا ک آپ کو خود مختار کردے گا۔ اسی طرح مکمل وظیفہ اوراس کے بعد دعا مانگنی ہے۔ اس کو صبح نماز فجر کے بعد اس عمل کر لینا ہے۔

اگر کسی وجہ سے اد ا نہیں کر سکے۔ تو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ نے اس کو صبح کے وقت پڑھ لینا ہے۔ اسی طرح آپ نے نماز عشاء کے بعد اس وظیفے کو کرنا ہے۔ اور اس کے بعد دعا مانگنی ہے۔ انشاءاللہ آپ کی تمام پریشانیاں اور قرض خود بخود دور ہوجائیں گی۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment