روٹی کی عظمت

حضرت امام حسین ؑ اللہ کےبندوں کو درس اخلاق دے ہی رہے تھے اتنے میں کسی نے پوچھا اے نواسہ رسول ! وہ کونساعمل ہے۔ جو اللہ کو اتنا پسند ہے۔ کہ اللہ دوزخ کی آگ انسان پر ح رام کردیتاہے۔ بس جیسے ہی یہ پوچھا گیا تو نواسہ رسول امام حسینؑ نے فرمایا: اے شخص ! میں نے اللہ کے رسول سے سنا کہ وہ عظیم عمل یہ ہے کہ انسان جب اس روٹی کےٹکڑے کو دیکھو جو لاوارثوں کی طرح زمین پر پڑا ہو۔ اس کو اٹھائے۔ صاف کرے۔ اور کسی ایسی جگہ پر رکھ دے۔ جہاں وہ پاؤں تلے کچلا نہ جائے۔

تاکہ اس روٹی کے ٹکڑے کو اللہ کی دوسر ی مخلوقات سکون سے کھا سکے۔ تو اللہ اس انسان کو اس عمل کو اتنا پسند کرتا ہے کہ اس کی وجود کی دوزخ کی آگ ح رام کردیتاہے۔ تو اس نے عرض کیا کہ اے نواسہ رسول یہ عمل اتنا عظیم کیوں ہے؟

امام حسین ؑ نے فرمایا: کیونکہ جب روٹی کا ٹکڑا کوئی انسان زمین پر پھینک دیتا ہے۔ تو وہ اللہ کی دربار میں فریاد کرتا ہے اے اللہ! تو نے مجھے انسانوں کے لیے خلق تو کیا۔ لیکن انسان میری قدر سے ناواقف ہیں۔ جب کوئی انسان زمین پر پڑے ہوئے روٹی کےٹکڑے کو صاف کرے ۔ اور کسی ایسی جگہ پر رکھ دے۔ جہاں وہ پاؤں تلے کچلا نہ جائے۔ تو وہی روٹی کاٹکڑا انسان کے جسم کےلیے شفاء بنتا ہے۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی دربار میں فریاد کرتا ہے۔

اے اللہ! ہزاروں انسانوں میں سے کسی انسان نے مجھے اس قابل نہ سمجھا کہ اٹھا کر صاف کرکے کھائے یا کسی محفوظ جگہ پر رکھے ۔لیکن یہ تیرا وہ بندہ ہے۔ جو میری قدر سے ناواقف ہے۔

اب تجھے واسطہ اپنے محبوب کا ، اس کے گن اہ مع اف کردے۔ اس کی دعاؤں کو پورا کرد ے۔ اس کے جسم پر دوزخ کی آگ کو ح رام کردے۔ یوں اللہ! اس روٹی کے ٹکڑے دعا فوراً قبول کرکے ان تینوں دعاؤں کو قبول کردیتاہے۔

Leave a Comment