مشکلیں ختم کرنی ہیں تو ایک بات جان لو ؟

اگر کسی چیز کو دل سے چاہتے ہو تو اس وقت تک کڑی محنت کر و۔ جب تک اسے حاصل نہیں کرلیتے ۔ کبھی کبھی ہم جیت کر بھی وہ نہیں سیکھ پاتے۔ جو ہار کر سیکھتے ہیں۔ زندگی میں ختم ہونے جیسا کچھ بھی نہیں ، ہمیشہ ایک نئی شروعات آپ کا انتظار کرتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ وقت بدلتا ہے۔ مگرمحنت کرکے بدلنا پڑتا ہے۔ یہ خود نہیں بدلتا ہے۔ کوئی ساتھ دے یا نہ دے خود ہی آگے بڑھتے چلو

کیونکہ خود سے بڑا کوئی ہمسفر نہیں ہوتا۔ جوانسان وقت پرپسینہ نہیں بہاتا، وہ بعد میں آنسو بہاتا ہے۔ بہت خامیاں نکالتے ہیں ۔ہم اکثر دوسروں میں، آؤآج ذرا ایک ملاقات آئینہ سے بھی کرلیں۔ تمہاری اصل ہستی تمہاری سوچ ہے۔ باقی تو صرف ہڈیاں اور گ وشت ہے۔ مشکلیں اپنا حل ساتھ لے کر آتی ہیں۔ بس بندے کوخداپر بھروسہ ہونا چاہیے۔ صیحح سمت اور صیحح وقت کا علم نہ ہو تو اگتا ہوا سورج بھی ڈوبتا ہوا معلوم پڑتا ہے۔

جب زمین تمہیں تنگ لگنے لگے توآسمان کی جانب دیکھنا ، نم آنکھوں سے مسکرانا اور کہنا اچھاتو ایسے راضی میں بھی ایسے راضی۔ محبت کسی ایسے شخص کی تلاش نہیں جس کے ساتھ رہا جائے ، محبت تو ایسے شخص کی تلاش ہے جس کے بغیر نہ رہا جائے۔ خوشی اس عینک کی طرح ہے ۔ جسے ایک بڑھیا بڑی دیر تک تلاش کرتی رہتی ہے۔ اور آخر میں اس کو اپنی آنکھوں پر لگی ملے۔

دکھ ایک دھکا ہوتا ہے جو کسی کو گمراہی کے تالاب میں گرا دیتا ہے تو کسی کو اللہ کے قدموں میں لاڈ التا ہے۔ موت کو موسم ہے نئی وباآئی ہے۔ سانس لینے پر بھی اک سزا آئی ہے ۔ جان نہیں چھوڑتی جان جانے تک عشق تیرے ٹکر کی اک بلا آئی ہے۔ پیار جب جب زمین پر اتارا گیا زندگی تجھ کو صدقے میں وار گیا پیار زندہ مقتولوں میں مگر پیا جس نے کیا ہے وہ مارا گیا۔ طوائف سے پوچھی جو وجہ جسم فروشی کی؟ بولی کرکے محبت پر یقین اپنا گھر چھوڑ دیا۔ محبت اور عبادت بتائی نہیں جاتی بس کہ جاتی ہیں۔

بے وفائی انسان کو مارنے نہ مارے ، بے پرواہی ضرور مار دیتی ہے۔ بے وفائی اہمیت کے ختم ہونے کا اور بے پرواہی اہمیت کے کم ہونے کا نام ہے۔ انسان کی فطرت ہے وہ خاتمہ برداشت کرلیتا ہے کمی نہیں۔ ہوسکتا ہے سچ بولنے سے آپ کے زیادہ دوست نہ بنیں لیکن جو بنیں گے وہ سچے دوست ہوں گے۔ کسی کو اتنا پیار دو کہ گنجائش نہ چھوڑو ۔ اگر وہ پھر بھی تمہارا نہ بن سکے تو اسے چھوڑو دو

کیونکہ وہ محبت کا طلبگار ہی نہیں تھا، بلکہ وہ ضرورت کا پچاری ہے۔ گلاب کو کوئی نام رکھ دیا جائے لیکن اس کی پہچان ان خوشبو ہی رہے گی ،انسان کا کوئی بھی رنگ وروپ ذات یا قبیلہ ہو مگر اس کی پہچان اس کے کردار اور اخلاق سے ہوگی۔ نسلی بکری کانوں سے پہچانی جاتی ہے۔ اور خوبصورت لڑکی پاؤں سے پہچانی جاتی ہے۔