حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مطابق وہ شخص جلدی مرجاتا ہےجس میں یہ ایک عادت موجود ہو

امیر المومنین حضر ت علی ابن ابی طالب ؑ کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے ۔ جس سے اپنے اور غیر سبھی مفکرین اور دانشور متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ جس کسی نے ان عظیم انسان کے کردار، گفتار اور اذکار پرغور کیا۔ وہ دریائے حیرت میں ڈوب گیا۔ غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے بھی جب امام علی کے اوصاف کو دیکھا تو دنگ رہ گئے ۔

کیونکہ انہوں نے افکا رعلی کو دنیا میں بے نظیر اور لاثانی پایا۔ ا س کے علاوہ انہوں نے دیکھا کہ آپ میں کمال طہارت ، جادو بیانی ، حرارت ایمانی ، بلندی روح انسانی ، بلندہمتی، نرم خوئی جیسی صفات موجود ہیں۔ امام علی ؑ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا کہ اے علی ! کونسے لوگ جلد ی مرجاتے ہیں ۔ اورکونسے دیر سے مرتے ہیں؟

تو سوال کے جوا ب میں امام علی ؑ نے فرمایا: اے شخص ! جو اپنی نگاہوں کو ادھر ادھر پھیرتا رہتا ہے۔ دنیاوی خواہشات اور لذت کے پیچھے بھا گتا رہتا ہے۔ تو وہ اپنی م و ت کو اپنی طرف مائل کرتا ہے۔ بیماریوں اور پریشانیوں میں گھر کر مرجاتا ہے۔ لیکن جو انسان اپنی نگاہیں جھکا کر چلتاہے۔ اور اپنے آپ کو کچھ نہیں سمجھتا ہے۔ اور اللہ کی رضا پر راضی رہ کر تکلیف میں صبر اور نعمتوں پر شکر ادا کرتا رہتا ہے۔

تو وہ انسان اپنی ہلاکت سے دیر تک بچارہتاہے۔ ایک موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت اور ان کی شخصیت کی وسعت کے حوالےسے لکھتا ہے کہ ان کا پورے جہان سے روحانی تعلق ہے۔ علی سب کے دوست ہے۔ ان کی م و ت پیغمبروں کی م و ت ہے۔ دوسرا محقق لکھتا ہے۔

کہ علی ؑ روح بیان میں ایک لامتناہی سمندر کی مانند ہے۔ اور ان کی یہ صفت ہر زمان اور ہرمکان میں ہے۔ امام علی ؑ تمام بزرگ انسانوں کے بزرگ ہیں۔ اور ایسی شخصیت ہیں۔ کہ دنیا نےمشرق ومغرب میں زمانہ گذشتہ اور حال میں آپ کی نظیر نہیں دیکھی۔ ایک تاریخ دان تھامس کال رائل لکھتا ہے ۔ ہم علی کو اس سے زیادہ نہیں جان سکے کہ ہم ان کو دوست رکھتے ہیںَ اور ان کی عشق کی حدتک چاہتے ہیں۔

وہ کس قدر جواں مرد ، بہادر اور عظیم انسان تھے۔ ان کے جسم کے ذرے ذرے سے مہربانی اور نیکی کے سرچشمے پھوٹتے تھے۔ ان کے دل سے قوت بہادری کے نورانی شعلے بلند ہوتے تھے۔ وہ دھاڑتے ہوئے شیر سے بھی زیادہ شجاعت تھے ۔ لیکن ان کی شجاعت میں مہربانی اور لطف وکرم کی آمیزش تھی ۔

مہاجرین کی اولین شخصیات میں سے حضر ت علی ؑ سب سے زیادہ معروف تھے ۔ا نہوں نے بہت سی جنگوں اورمعرکوں میں فتح حاصل کرکے اپنے نام کا سکہ بٹھا دیا تھا۔ لیکن ان کامیابیوں سے بھی قیمتی چیز یہ تھی کہ انہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے دل میں ایک مقام بنا لیاتھا۔ وہ پیغمبراسلام ہی کے تریبت یافتہ تھے وہ ان کے دوست بھی تھے ۔ ایسے ساتھی بھی تھے جو کبھی جدا نہ ہوئے۔