ز ن ا کا کفارہ کیا ہے؟

عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کے ساتھ بیٹھتے تھے ۔ آپ ﷺ نے فرمایاکہ: بیت کرو مجھ اس اقرار پر کہ اللہ تعالیٰ کا شریک نہیں کریں گے۔ اور ز ن ا اور چوری اور ناحق خ ون جس کو اللہ تعالیٰ نے ح رام قراردیا۔ نہیں کریں گے ۔ پھر جو کوئی اپنے اقرارکو پورا کرے گا۔ اس کا ثواب اللہ تعالیٰ پر ہوگا۔ اور جو کوئی کام ان میں سے کر بیٹھے گا۔ پھر اس کو دنیا کی اس کی س زا ملے گی۔ یعنی حدلگے گی۔ تو وہی اس کے گن اہ کاکفارہ ہے۔

اور جو دنیا میں اللہ تعالیٰ اس کے کام چھپالے تو عاقبت میں اللہ تعالیٰ کواختیارہے۔ چاہے تو اس کو مع اف کردے ۔ چاہے تو ع ذاب دیدے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ : خواب میں میرے پاس میرے رب کا آنے والا ایک فرشتہ آیا۔ا ور اس نے مجھے خبر دی۔ یا آپ ﷺ نے فرمایا: اس نے مجھے خوشخبری دی ۔ کہ میرے امت میں سے جو کوئی اس حال میں مرے گا۔ کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس نے کوئی شریک نہ ٹھہرایا ہو۔ تو وہ جنت میں جائےگا۔ اس پر میں نے پوچھا اگرچہ اس نے ز ن ا کیا ہو؟ اگر چہ اس نے چوری کی ہو؟

تو رسول اللہﷺنے فرمایاکہ: ہا ں! اگر چہ ز ن ا کیا ہو؟ اگرچہ چوری کی ہو؟ ۔حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: چوری کرنے والا جب چوری کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔ ز ن ا کرنے والا ز ن ا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔ شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا۔ خیانت کرنے والا جب خیانت کرتا ہے۔ تو وہ مومن نہیں ہوتا۔اور لوٹ مارکرنے والا جب لو ٹ مار کرتا ہے

تووہ مومن نہیں ہوتا۔ عطاراوی کے الفاظ یہ ہیں جو لوگوں کے سامنے لوٹ مارکرتا ہےوہ مومن نہیں ہوتا۔ جب راوی سے اس حدیث کا مفہوم کا پوچھا گیا ہے تو انہوں نے کہا :ایمان ایسے شخص سے چھین لیا جاتا ہے۔

پھر اگر وہ ت وبہ کرلیتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی ت وبہ قبول فرما لیتا ہے ۔رسول اللہﷺنے فرمایاکہ :اللہ اس شخص کی چہرے کو تروتازہ رکھے جس نے میرے سے کوئی حدیث سنی پھر جیسے سنی ویسے اسے آگے پہنچادیا۔