جو شوہر نکاح کےبعد بیوی کو طلاق

کچھ مرد ایسے ہوتے ہیں جو اپنی بیوی کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر کوستے ہیں۔ اپنی بیوی کو باتیں سناتے ہیں۔کھانا گرم نہیں ہے۔ کھانے میں نمک برابر نہیں ہے۔ کپڑے استری نہیں کیے۔ بستر نہیں کیا۔ بچوں کو وقت پر نہیں سلایا۔ ان باتوں پر اپنی بیوی کو ڈانٹتے ہیں۔ بیوی کو طبیعت خراب ہو۔ تو بھی بیو ی پر آرڈر کرتے ہیں۔ میرے لیے چائے بنا دو۔ میرے لیے پانی بنا دو۔ یہ کردو وہ کردووغیرہ۔ بیوی کہہ دے کہ اس کی طبیعت خراب ہے تو اس کو باتیں سناتے ہیں۔

اور اکثر مرد ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جو اپنی بیوی کو بات بات پردھمکی دیتے ہیں۔ ایسا تمام مردوں کے لیے پیغام ہے جو اپنی بیوی کو طلا ق کی دھمکیاں دیتے ہیں۔ جن کا اپنی بیوی کے ساتھ برتاؤ اچھا نہیں ہوتا۔ جو اپنی بیوی کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر دھمکاتے ہیں۔ اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ اپنی بیوی کو گھرسے نکل جانے کی دھمکی دیتے ہیں۔ اور بات بات پر ان کو طلاق کا ڈراوا دیتے ہیں۔ اپنی بیوی کو اپنا خادمہ سمجھتے ہیں۔ بیوی اس کی سب باتوں کو برداشت کرتی ہے۔

وہ سوچتی ہے کہ غریب باپ نے کس کس طرح محنت کرکے اس کا جہیز بنا یا ہوگا۔ وہ سوچتی ہے۔ کہ اگر گھر واپس چلی جائے تو پہلے سے والد پر اس کی بہنوں اور بھائیوں کا بوجھ ہے۔ وہ اپنے والد پر بوجھ نہیں بنے گی۔ وہ اپنے بچوں کو سوچتی ہے۔ لیکن اس کا ظالم شوہر اس کی اس سوچ کا فائدہ اٹھاتا ہے اس کو باتیں سناتا ہے۔ اس کی مجبوری سے فائدہ اٹھاتاہے۔ وہ کبھی نہیں سوچتا یہ کہ وہ بیچاری اپنا گھر چھوڑ کر اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر، اپنے بہن بھائیوں کو چھوڑ کر اپنے گھر آئی ہے۔

اس کو اپنے شوہر سے محبت کی امید ہے۔ لیکن یہ مرد اس کو ذلیل کرتا ہے۔گالیا ں دیتا ہے۔ بات بات پر ذلیل کرتا ہے۔ مارتا ہے پیٹتا ہے۔ اس کو طلا ق کی دھمکیاں دیتاہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کی بیوی اس طرح سے سدھر جائے گی۔ لیکن افسوس ایسے مردوں پر جو اپنی بیوی کے ساتھ ایسا رویہ کرتے ہیں۔ اور اس کو اپنی ملکیت سمجھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بیوی کے ساتھ سخت رویے رکھ کر اپنی بیوی کو صیحح رکھ لیں گے۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ عورت کو محبت کے ساتھ اپنے ساتھ شامل کیا جاسکتا ہے۔

عورت کے محبت کے ساتھ صیحح تو کیا جاسکتا ہے۔ لیکن کوئی مرد یہ سوچے کہ عورت کو سختی سے راہ راست پر لائے گا تو یہ ا س کی غلطی ہے۔ اگر وہ چاہتا ہے کہ اس کی بیوی سدھر جائے تو اس مردکو چاہیے کہ اپنی بیوی کو عزت دے ۔ اوراپنی بیوی کو محبت دے ۔ جس طرح یہ اپنے ماں باپ کی عزت کرتا ہے۔ اور اپنی بیو ی کے ماں باپ کی عزت کرے۔ جس طرح اپنی بہن بھائیوں کی عزت کرتا ہے۔ اس طرح اپنی بیوی کے بہن بھائیوں کی عزت کرے۔

جب وہ اپنی بیوی اور اس کے گھر والوں کو عزت دے گا۔ تو بیوی اس کو عزت دے گی۔ یاد رہے کہ بیوی کے حسن وسلو ک کی احادیث مبارکہ میں بڑی تاکید آئی ہے۔ اور خود آپ ﷺ کی زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو آپ ﷺ اپنے ازواج کے ساتھ جو برتاؤ فرمایا کرتے تھے اس کی مثال نہیں ملتی۔ لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم خود کو رسول اللہﷺ کا پیروکارسمجھتے ہیں۔

لیکن گھروں کے اندر ہمارے جو اخلاق ہیں وہ کسی سے بھی مخفی نہیں ہیں۔ یادرہے کہ! حدیث نبوی ﷺ میں میاں بیو ی کو آپس میں محبت کا درس دیا گیا۔ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ: تم میں بہترین آدمی ہے۔ جو اپنے اہل وعیال کے حق میں بہترہو۔ اور میں اپنے اہل کے لیے تم سب سے بہتر ہوں۔