جب کوئی نیکی قبول ہو تی ہے تو پانچ نشانیاں انسانی جسم میں ظاہر ہو تی ہیں! کیا آپ کے ساتھ بھی کبھی ایسا ہوا ہے؟

انسان یہ چاہتا ہے کہ جب وہ نیی کرے اس کو پتاچلے کہ اس کی نیسا قبول ہوئی ہے یا نہںل ہوئی جب وہ نماز پڑھتا ہے تو اسے اس بات کا پتہ نہںت ہوتا کہ اس کی نماز قبول ہوئی ہے یا نہں ہوئی کبھی وہ اللہ کی راہ مںا صدقہ بھی دیتا ہے تو وہ یہ جاننا چاہتا ہے کہ اس کا یہ صدقہ اللہ کے ہاں قبول ہوا یا نہں دنا کی کسی بھی قسم کی نیاس ہو کسے پتہ چلے گا کہ ہماری نیجا قبول ہوئی ہے یا قبول نہں ہوئی ۔

حدیث رسول ﷺ کا مفہوم ہے کہ جس کے راوی حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ ہںی آپ نے نییا اور اس کی نشانی بابن کی وہ کہاکرتے تھے کہ جب نی قبول ہوجاتی ہے تو پانچ نشانابں انسان کے جسم مںی پد ا ہوجاتی ہںت جو انسان نیبا کرتا ہے جب اس کی قبول ہوجاتی ہے نیہے تو اس کی وجہ سے اس کا چہرہ ٹمٹمانے لگ جاتا ہےاس پر عجب سی رونق آجاتی ہے

چہرہ کی روشنی کا ہے ؟جب اللہ تعالیٰ اس کی نیکی قبول کر لتےہ ہںت تووہ اپنی خوشی کا اظہار اپنی مسکراہٹوں اور بشاشت کے ساتھ وہ انسان دناہ کے سامنے کرتا ہے ہر وقت خوش ، یوں لگتا ہے کہ دنا مں اس سے بڑا انسان سکون اور وقار والا کوئی بھی نہںت ہے اس کو دناں کا غم ہی نہںا ہے کوئی یہ خوشی ہر ایک کو نصبی نہںر ہوتی اس کا دل بھی روشن ہوجاتا ہے دل مںل روشنی سے کام ہے ؟

یینک ہر وقت اللہ کے وعدوں پر پرامدی ہونا رسول اکرم ﷺ کے صحابی جب باےن کریں کہ دل مںا خوشی اس کے پاس کچھ بھی ہو یا نہ ہو اتنی خوشی اس کے دل مںد ہوتی ہے کہ پرواہ ہی کوئی نہں اس کو اور یہ یاد رکھنا کہ امر انسان مال سے نہںھ بنتا بلکہ امری ہمشہی دل سے بنتا ہے کتنے لوگوں کی جب خالی ہوتی ہے لکنا اتنے غنی انسان ہوتے ہںک کہ کوئی پرواہ ہی نہںا ہوتی اور کتنے امر ایسے لوگ ہںج کہ اپنے اوپر بھی خرچ نہںر کرتے کہںہ ختم نہ ہوجائںن اور یہ حققت مں زندگی نہںا شرمندگی ہےاس کے جسم مںب عجبو سی طاقت آجاتی ہے

یہاں پر نبی کریم ﷺ کے صحابی نے فرمایا کہ اس کے بدن مںگ طاقت آجاتی ہے نیتن کرنے کی طاقت ہوتی ہے تو شطاین اس کو گمراہ نہں کرسکتا شطامن سے بچنے کی قوت اللہ اس کے جسم مںک پدبا کردیتاہے وہ اپنے مال و دولت مںا بھی وسعت اور فراوانی محسوس کرتا ہے یین اس پر فرمایا کہ اس کے رزق مںا اللہ تعالیٰ وسعت پدنا فرمادیتا ہے کشادگی پداافرمادیتا ہے وہ جتنا بھی لوگوں پر خرچ کرے اس کے رزق مںف پھر کبھی کمی نہںت آتی اتنی وسعت اللہ تعالیٰ اسے عطافرمادیتے

ہںر لوگوں کے دل مں اللہ تعالیٰ اس کی محبت پدکاکردیتا ہے اب اس محبت کی نشانی کاد ہوتی ہے یہ حدیث قدسی بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب اپنے بندے سے خوش ہوتا ہے تو اس وقت اس کی محبت لوگوں کے دلوں مںہ پدااکردیتا ہے