سچا واقعہ : چلتے پھرتے اللہ کے یہ صفاتی نام پڑھتا تھا

کیا آ پ چاہتے ہیں کہ ایک اسم اعظم کو اپنے زندگی کا حصہ بنالیں ۔ پھر جب دل چاہے اس اسم اعظم کے طفیل اللہ سے مانگیں۔ انشاءاللہ! آپ کی ہر مراد ، ہر خواہش ضرور پوری ہوگی۔ وہ اسم اعظم ” یا اللہ ، یا رحمان، یا رحیم ” ہیں۔ یہ وظیفہ بہت ہی مجر ب ہے۔ یہ عمل کب اور کیسے اور کس طرح کرنا ہوگا؟ آپ کو عمل بتانے سے پہلے آپ کو ایک واقعہ بتاتے ہیں۔

ایک آدمی نے اپنا واقعہ بیان کیا ہے کہ جادو کے اثرات نے ہمارے گھر کا ماحول اور نظا م درہم برہم کردیاتھا۔ معاشی طور پر بھی حالات خراب ہو تے جارہے تھے۔ مجھے اور میری بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تھا۔ گھر پر جادو کے اثرا ت چھا گیا۔ میر ا دل کام کاج سے اچاٹ ہوتا جارہا تھا۔ اور ذہن کام کرنے سے انکا رکردیتا۔ والد صاحب مستقل بیماررہنے لگے۔ گھر میں اختلافات اور جھگڑے بڑھتے جارہے تھے۔

جائیداد کے معاملے میں تنازعات پیدا ہوگئے ہیں۔ ان مشکلات سے نجات کےلیے مجھے ا یک عالم دین نے یہ وظیفہ بتایا کہ عمل یہ تھا کہ صبح وشام اور رات یعنی دن میں تین مرتبہ یہ عمل کرنا تھا۔ اور اس عمل کےلیے ایک گلاس پانی لیں۔ اور سیدھے ہاتھ کو دھونے کےبعد آپ نے اس ہاتھ کی شہادت کی انگلی کو اس پانی کے گلاس میں ذرا سا ڈال کر ایک سومرتبہ اللہ پا ک کے اسم اعظم ” یا رحمان ، یا رحیم ” پڑھ کر پانی پر دم کرنا ہے۔

اور پھر وہ پانی پی لینا ہے۔ اور اس عمل کو اکیس دن تک لگاتار بلاناغہ کرنا ہے۔ میں نے یہ عمل اسی طرح سے کیا۔ ابھی تین دن بھی نہ گزرے تھے ۔ کہ میرا جائیدا د کا سب سے بڑا مسئلہ حل ہوگیا۔ اکیس روز مکمل ہونے تک میر ی تمام پریشانیاں دور ہوچکی تھیں۔ پھر میں نے تب سے ان الفاظ کو ہر روز چلتے پھرتے

اٹھتے بیٹھتے پڑھنے کا معمول بنا لیا۔ اسی طرح اگر آپ بے چینی اور وسوسوں کا شکار ہیں۔ روزانہ نماز عصر کے بعد ” یا اللہ ، یا رحمان ، یا رحیم ” ایک سو ایک مرتبہ پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے حالات بہتر ہونے کےلیے دعاکریں۔ اور اس عمل کے اول و آخر درود پاک لازمی پڑھیں۔

کسی بھی مقدار میں آپ نے درود ابراہیمی یا کوئی سابھی درود پا ک پڑھنا ہے۔ اور درمیان میں ایک سو ایک مرتبہ “یا اللہ ، یا رحمان، یارحیم ” کا ورد کرکے ، اللہ کے حضور حالا ت کی بہتری کےلیے دعا کرنی ہے۔ انشاءاللہ! اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا خاص فضل فرمائیں گے۔

اللہ تعالیٰ پورا یقین رکھیں۔ اس یقین سے ہی انسان کو اطمینا ن قلب حاصل ہوتاہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل ہوتی ہے۔ اور و سوسوں میں بھی گرفتار نہ ہوں۔