پیارے نبی ﷺ نے فرمایا: جو یہ دعا پڑھ لے پھر

توبہ واستغفار کا دروزاہ م وت تک کھلا ہے۔ جب انسان کا آخری وقت نہیں آجاتا۔ وہ توبہ کرسکتا ہے۔ اور اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے۔ لیکن جب آخر ی لمحات آجائیں ۔ تو م وت سامنے نظر آنے لگے ۔ جب انسان کو یقین ہوجائے کہ بس اب وقت نذا آن پہنچا ہے۔ اس وقت اگر وہ اپنے گن اہوں سے توبہ کرے ۔ تو اس وقت کی توبہ کوئی اعتبار نہیں۔ یعنی اس وقت کی توبہ قابل قبول نہیں۔

انسان کی یہ خصلیت ہے کہ وہ نسیان سے محفوظ نہیں رہ سکتا ہے۔ اس کے تحت وہ دانستہ یا نا دانستہ گن ا ہ کر بیٹھتا ہے۔ بہترین انسان وہ ہے جسے گناہ کے بعد یہ احساس ہوجائے کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔ اگر اس نے توبہ نہ کی تو یہ غلطی اس کے خالق و مالک کو اس سے ناراض کردے گی۔ اور یہی احساس انسان کو توبہ واستغفار کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

حضرت شدّاد بن اَوس رضی الله عنه سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: سب سے عمده استغفاریہ ہے:”اَللّٰھُمَّ اَنْتَ رَبِّیْ، لَا اِلٰهَ اِلَّا اَنْتَ خَلَقْتَنِیْ وَ اَنَا عَبْدُکَ وَ اَنَا عَلٰی عَھْدِکَ وَ وَعْدِکَ مَا اسْتَطَعْتُ اَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ اَبُوْءُ لَکَ بِنِعْمَتِکَ عَلَیَّ وَ اَبُوْءُ بِذَنْبِیْ فَاغْفِرْ لِیْ اِنَّهُ لَا یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اَنْت”َ۔

ترجمہ: اے الله! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بنده ہوں اور میں اپنی استطاعت کے مطابق تجھ سے کیے ہوئے عہد اور وعدے پر قائم ہوں، میں تیری پناه چاہتا ہوں ہر برائی سے جو میں نے کی، میں اپنے اوپر تیری عطا کرده نعمتوں کا اعتراف کرتا ہوں اور اپنے گن اه کا اعتراف کرتا ہوں، پس مجھے بخش دے، یقینا تیرے سوا کوئی گن اہوں کو بخش نہیں سکتا۔

آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا: جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے صبح ان کو کہہ لیا اور اسی دن شام ہونے سے پہلے اس کا انتقال ہوگیا تو وه جنت والوں میں سے ہے اور جس نے اس دعا کے الفاظ پر یقین رکھتے ہوئے رات میں ان کو پڑھ لیا اور پھر اس کا صبح ہونے سے پہلے انتقال ہو گیا تو وه جنت والوں میں سے ہے۔کتنا سستا سودا ہے ۔ اللہ پاک اپنے بندوں کو بخشنے کےلیے کتنا مہربان ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اپنے بندوں کو بخش دے ۔ خود ہی سوچیں ،یہ دعا کس قدر جامع ہے کہ جسے ہمارے پیارے آقاﷺ نے خود سکھادی ۔

اور اس کو یاد کرنے میں بھی کوئی دقت نہیں ۔ اور اگر روزانہ صبح وشام پڑھ لیا جائے تو اس پر خاص وقت بھی صرف نہیں ہوتا۔ اور اللہ کے نبی ﷺ فرما تے ہیں کہ جس نے اسی دن اس کو یقین کے ساتھ اس کو پڑھا اور ف وت ہوگیا تو وہ سیدھا جنت میں جائےگا۔ یہ امت کےلیے آقاﷺ کی طرف سے ایسا تحفہ ہے۔ کہ جو شخص اللہ پاک سے گن اہوں کی بخشش چاہتا ہے تو سیدالاستغفار کو اپنا معمول بنا لے۔ اللہ پاک اس کی برکت سے اس کے گن اہوں کو معاف فرماد گے ۔ اور اس کو جنت کا مستحق بنا دے گا۔