جب تم اس کام میں لگ جا ؤ تو سمجھ جا نا کہ اللہ تمہاری رسوائی چاہتا ہے۔

حضرت مو لا نا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ فر ما تے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب کسی شخص کی پردہ پوشی کر نا چاہتا ہے تو اسے معیوب لوگوں کے عیبوں پر بھی بات نہ کرنے کی توفیق بخش دیتا ہے۔ عقل کو خواہش پر فضیلت حاصل ہے کیونکہ عقل زمانے کو تمہارے ہاتھ دے دیتی ہے جب کہ خواہش آپ کو زمانے کا غلام بنا دیتی ہے۔ درویش کی مثال ایسی ہے کہ ایک خالی گھڑا ہے جس کا منہ بند ہے دریا میں کیسا بھی طوفان بر پا ہو۔ وہ اس میں ڈوب نہیں سکتا۔

اللہ والوں کی باتیں سکون قلب عطا کر تی ہیں اور اہلِ ظاہر کی باتیں دل میں انتشار اور بے اطمینانی پیدا کر تی ہیں۔ ایسے دکھو جو تم ہو یا پھر ویسے بن جا ؤ جیسے تم دکھنا چاہتے ہو۔ اللہ تعالیٰ ظاہر کی بجائے باطن اور کل کی بجائے حال کو دیکھتا۔ خوشی خالص اور شفاف پانی کی مانند ہے ، جہاں جہاں یہ بہتا ہے حیرت انگیز طور پر شاندار شگوفے کھلا دیتی ہے۔ احمق انسان کی دوستی سے دین اور دنیا دونوں ہی کا خ و ن ہو تا ہے۔

محبت کی تلاش کر نا آپ کا ہدف نہیں بلکہ آ پ کا ہدف ان رکاوٹوں کو دور کر نا ہے جو آپ نے محبت کے جذبات کے خلاف کھڑی کر لی ہیں۔ جس انسان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں ، اس انسان پر اللہ تعالیٰ کی رحمت بر ستی ہے۔ جو لوگ عقل مند ہیں وہ مذاق کی بات میں سے بھی نصیحت کو حاصل کر لیتے ہیں۔ بلبل کو اس کی سریلی آواز اور میٹھے گیت کی وجہ سے قید کر لیا جا تا ہے کیا کبھی سنا کہ کوے کو بھی کسی نے پنجرے میں ڈالا ہے۔

رات کو سونے کے بعد قیدی اپنے قید سے اور بادشاہ اپنی سلطنت و دولت کے احساس سے بے خبر ہو جا تے ہیں۔ نیک لوگ چلے گئے اور ان کے اچھے اعمال باقی رہ گئے۔ برے لوگ بھی چلے گئے اور ان کے برے اعمال باقی رہ گئے۔

اگر کا میابی حاصل کر نا چاہتے ہو تو مسلسل محنت کر تے رہو۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کی رسوائی چاہتا ہے تو اسے پاک لوگوں پر لعن طعن کر نے کی طرف مائل کر دیتا ہے۔ مو لا نا رومی سے کسی نے پو چھا کہ ز ہ ر کیا ہے؟

آپ نے فر ما یا: ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زیادہ ہے ز ہ ر ہے جیسے اقتدار دولت بھوک، لالچ، محبت اور نفرت۔ زمین کی اچھائی یا برائی کا پتہ لگا یا جا سکتا ہے خیالات دل کی پیداوار ہو تی ہے دل کی اچھائی یا برائی کا پتہ لگا یا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ مجھے اور آپ کو اس بات کا علم ہے کہ ہمارے جو بزرگ ہیں انہوں نے اپنی زندگانیاں گزاری ہو ئی تھیں تو ان کے تجربات سے ہمیں بھی فائدہ اُٹھانا چاہیے۔