علامہ اقبا ل نے م و ت کو کیا خوب لکھا ہے۔

علامہ اقبال نے م و ت کو کیا خوب لکھا ہے کہ زندگی میں میرے پاس کوئی دو منٹ نہ بیٹھا۔ لیکن آج سب میرے پاس بیٹھے جا رہے تھے کوئی تحفہ نہ ملا آ ج تک مجھے۔۔ اور آج پھول ہی پھول دیے جا رہے تھے ترس گیا میں آج کسی کے دیے اک کپڑے کو۔۔ اور آج تو نئے نئے کپڑے اوڑھے جا رہے تھے دو قدم ساتھ نہ چلنے والے آ ج آج وہ قافلہ بنا کر چلے جا رہے تھے آج پتہ چلا م و ت کتنی حسیں ہو تی ہے ۔

ہم تو یوں ہی جیے جا رہے تھے انسان جو صرف خاک ہے، ہوا ہے، پانی ہے۔ اس سے زیادہ کچھ بھی تو نہیں ہے انسان۔ اگر اس میں اللہ نے اپنی روح نہ پھونکی ہوتی تو انسان کی اوقات ہی کیا تھی۔ اللہ نے اسے روح کے ذریعے پروان چڑھایا تو ہی انسان، انسان کہلانے کا مستحق ہوا۔ اور اسی کی نسبت انسان میں بہت سی صفات تجلّی ِخدا نما ہیں۔ مثلا: معاف کرنا، رحمدلی سے پیش آنا، محبت کرنا، مدد کرنا اور کئی ایک صفات۔ مگر یہ سب تو ایک فی صد بھی نہیں۔

اس کے باوجود انسان میں غرور و تکبر کا بیج آخر کہاں سے اُگ جاتا ہے۔ وہ کیوں یہ سوچنے لگتا ہے کہ وہ عقلِ کل ہے، وہ سب کچھ کرسکتا ہے، وہ جو کچھ بھی ہے بس اپنی ہی وجہ سے ہے، اس کے پاس جو کچھ بھی ہے تو وہ اس کے اپنے کارناموں کی بدولت ہے۔ کیا وہ نہیں دیکھتا کہ سورج کس طرح اپنے مقرر کردہ وقت پر طلوع و غروب ہوتا ہے، یا چاند کس طرح رات کی تاریکی پر پردہ ڈالے ہوئے ہے؟

یا یہ آسمان کس طرح بغیر کسی کیل کے کتنی طوالت سے قائم و دائم ہے؟ یا یہ زمین ہے، اور اس میں بڑے بڑے پہاڑ میخوں کی مانند گڑے ہیں تاکہ زمین کا توازن برقرار رہ سکے؟ اور کس طرح آسمان سے پانی برستا ہے تو ہی انسان اپنا پیٹ بھرنے کے قابل ہے؟ اور کیسا کیسا سبزہ کلیوں سے پھوٹتا ہے؟ کس طرح موسم بدلتے ہیں؟ مگر انسان پھر بھی انسان ہے۔ وہ خود کو بہت بڑا سمجھتا ہے۔ حالاں کہ یہ زمین بے شمار گنا بڑی ہے۔

اور اس سے بھی بڑا سورج ہے۔ اور سورج سے بھی بڑے بڑے سیارے اس کائنات میں اپنے گردش وایام میں مصروفِ کار ہیں۔ گویا انسان تو اس دنیا میں ایک نقطے کے برابر بھی نہیں۔ اگر روح نہ ہوتی تو وہ تو خاک ہی تھا۔ اور اس کی یہ روح اگر ابھی قبض کرلی جائے تو پھر وہ خود کو اپنے تمام تر غرور کے ساتھ کہاں کھڑا پاتا ہے؟ اسی لیے اللہ قرآن میں کہتا ہے: ’’ہے کوئی جو غور و فکر کرے؟

انسان کو اللہ نے جو صلاحیتیں دیں، انہی کی بدولت اسے تمام مخلوقات پر برتری حاصل ہے۔ جن میں سب سے اہم اس کا دماغ ہے۔ انسان اپنے دماغ کا استعمال کرتے ہوئے کیا کیا کارنامے سرانجام نہیں دے سکتا مگر یاد رہے کہ علم سارے کا سارا سکھایا ہوا اللہ ہی کا ہے۔ انسان نے اس دنیا میں بہت ترقی کی اور اس کی یہ ترقی آخر تک جاری و ساری رہے گی