آپ ﷺ نے فر ما یا۔شوہر کو اپنی بیوی کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہیے۔

تو آئیے ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام شوہر اور بیوی کو ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی کے لیے کیا حکم دیتا ہے؟ سب سے پہلے شوہر کی ذمہ داریوں پر بات کر یں گے اور عورت کے حقوق پر ۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے شوہر اور بیوی دونوں کو ایک دوسرے کا لباس بتا یا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔ ترجمہ: وہ تمہارا لباس ہے اور تم انکا لباس ہو۔ اور لباس انسان کے لیے حفاظت زیب و زینت اور سکون کا باعث ہو تا ہے۔

انسان اپنے لباس سے پہچانا جا تا ہے انسان اپنے لباس کی قدر کر تا ہے حفاظت کر تا ہے۔ نگہداشت کر تا ہے اس کے بارے میں حساس ہو تا ہے اس سے غافل نہیں ہو تا کیونکہ وہ اس کی شخصیت کو خوبصورت بنا تا ہے اور اگر لباس اچھا نہیں ہے تو شخصیت داغدار ہو جا تی ہے تو جس طرح جسم اور لباس کا ایک باہم تعلق ہے ایک مضبوط تعلق ہے

قریبی تعلق اسی طرح شوہر اور بیوی کا بھی با ہم ایک مضبوط قریبی تعلق ہو تا ہے اس لیے دونوں جب تک ایک دوسرے کے حقوق ادا نہ کر یں دونوں ایک دوسرے کا خیال نہ رکھیں تو کوئی بھی خوش گوار خاندان نہیں جنم لے سکتا۔ تا آئیے دیکھتے ہیں کہ اس سلسلہ میں اسلام کی تعلیمات کیا ہیں۔ سب سے پہلے شوہر کو یہ تلقین کی گئی کہ وہ بیوی کے ساتھ اچھا سلوک کر ے۔

قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ فرما تے ہیں۔ ترجمہ: اور ان عورتوں کے ساتھ معروف طریقے سے بھلے طریقے سے زندگی بسر کر و۔ نبی ﷺ نے مردوں کو تلقین کر تے ہوئے فر مایا لوگو سنو عورتوں کے ساتھ اچھے سلوک کے ساتھ پیش آ ؤ کیونکہ وہ تمہارے پاس قیدیوں کی طرح ہے تمہیں ان کے ساتھ سختی کرنے کا کوئی حق نہیں ہے سوائے اس کے جب ان کی طرف سے کھلی ہوئی نافرمانی سامنے آ ئے۔

اسی طرح آپ نے اپنے اس خطبہ میں یہ بھی فر مایا کہ دیکھو سنو تمہارے کچھ حقوق تمہاری بیویوں پر ہیں اور تمہاری بیویوں کے کچھ حقوق تم پر ہیں۔ تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ وہ تمہارے بستروں کو ان لوگوں سے نہ رندوائیں جن کو تم نا پسند کر تے ہو اور تمہارے گھروں میں ایسے لوگوں کو نہ آ نے دے جن کا آنا تمہیں نا گوار ہو اور سنو ان کا تم پر یہ حق ہے کہ تم انہیں ا چھا کھلاؤ اور اچھا پہناؤ اسی طرح اسلام شوہر کو یہ حکم بھی دیتا ہے کہ وہ بیوی کے ساتھ خوش گمان رہے ۔

اور اگر دیکھا جا ئے تو انسانی گمان اور انسانی سوچ انسان کے عمل کی بنیاد بنتی ہے۔ اب کسی کے ساتھ اچھا سلوک اسی وقت کر سکتے ہیں جب آپ حسنِ زن رکھتے ہوں اس کے بارے میں اچھی سوچ رکھتے ہوں۔ اس کے لیے برا نہ چاہتے ہوں۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآنِ پاک میں اللہ فر ما تے ہیں۔ ترجمہ: کہ اگر وہ تمہیں کسی وجہ سے نا پسند بھی ہوں تو ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں تمہارے لیے بہت کچھ بھلائی رکھی ہو۔