آپ ﷺ نے فر ما یا دو خوف ناک بیماریاں ۔ بیماریوں کے نقصانات اور ان کا حل۔

آپ ﷺ نے ارشاد فر ما یا کہ مجھے اپنی اُمت کے بارے میں ان دو خ و ف ناک بیماریوں کا ڈر ہے آپ ﷺ نےا رشاد فر مایا : ترجمہ مجھے اپنی اُمت کے بارے میں جو ڈر ہے جو خ وف ہے وہ دو بڑی بیماریوں کا ہے ۔ پہلی بیماری کیا ہے ؟ خواہشات کی پیروی ۔ اور دوسری بیماری کیا ہے ۔ دنیا کے بارے میں لمبی لمبی اُمیدیں رکھنا۔ پھر آپ ﷺ نے صرف بیماری نہیں بتائی اس بیماری کی تشخیص بھی فر ما ئی ۔

اس بیماری کے نقصانات بھی ارشاد فر ما ئے ۔ اور پھر اس بیماری کا علاج بھی تجویز فر ما یا ۔ جیسے ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں کہ ایک ماہر ڈاکٹر ایک طبیب بیماری کی تشخیص کر تا ہے۔ اور مزید مہارت اس کی یہ ہو تی ہے اس بیماری کے متعلق نقصانات کے متعلق بتاتا ہے۔ اور اس سے بڑھ کر مہارت بہترین اس بیماری کا علاج تجویز کر تا ہے۔

تو میرے عزیز آپ ﷺ اس کائنات کے سب سے بڑے طبیب اپنی امت کے متعلق پہلے دو بیماریوں کا بتا یا کہ خواہشات کی پیروی اور دنیا کے متعلق لمبی لمبی اُمیدیں رکھنا یہ دو بڑی خ وف ناک بیماری ہے۔ پھر ارشا د فر ما یا کہ اچھا یہ دو بیماریاں ہیں اس سے نقصان کیا ہو گا؟ پہلی جو بیماری ہے خواہشات کی اتباع۔ خواہشات کی پیروی کرنے والا حق سے دو ر رہتا ہے۔

خواہشات کی پیروی کرنے والا کبھی بھی حق کو نہیں پہچان سکتا۔ کیوں کہ وہ اپنے خواہشات سے ایسا جکڑا ہوا ہو تا ہے ہر چیز میں وہ اپنی خواہش کو مدِ نظر رکھے گا۔ تو فر ما یا : ترجمہ: خواہشات کی پیروی سب سے پہلا اس کا نقصان یہ ہو گا کہ تم حق کو پہچاننے حق کو سمجھنے حق کو دیکھنے سے دور ہو جا ؤ گے۔ اور یہ جو لمبی اُمیدیں دنیا کے متعلق اس کا نقصان کیا ہے اس کا نقصان یہ ہے کہ آخرت کو بھلا بیٹھو گے۔

جیسا کہ ہم سب ہی جانتے ہیں کہ آخرت کی خواہش اور دنیا کی خواہش میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ اگر ہمیں اللہ کو جیتنا ہے تو ہمیں آخرت کو جیتنا ہو گا اور اگر ہم نے اللہ کو ناراض کر نا ہے تو ہمیں اپنے اللہ کو ناراض کر کے ہی دنیا کو سنوار سکتے ہیں اور اللہ کی ناراضگی میں ہمارے لیے نقصان ہی نقصان ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی ناراضگی کو مول لینے کی بجائے اس کی خوشنودی حاصل کر یں

تا کہ ہم اس دنیا میں بھی کا میاب ہو سکیں اور آخرت میں بھی کا میاب ہو سکیں اور اپنے رسول اللہ ﷺ کا حق بھی ادا کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس زندگی میں بہت سے مواقع دئیے ہیں اور آگے بھی دے گا کہ ہم اس کی خوشنودی حاصل کر لیں۔ مگر ہم نے فائدہ نہ ا ُٹھا یا تو ہمیں چاہیے کہ ہم م ر نے سے پہلے اپنے اللہ کی خوشنودی حاصل کر لیں۔

Leave a Comment