کاروبار ، گھر میں خوشحالی

اکثر لوگوں کے زبان یہ گلہ و شکایت رہتی ہے کہ ان ہاتھوں میں پیسے ٹکتے نہیں بلکہ خرچ ہو جاتے ہیں ۔ ایسے لوگ جن کےپیسوں میں یا رزق میں برکت نہیں تو پریشان نہ ہوں

بلکہ اس مسئلے میں مبتلا افراد روزانہ نماز فجر اور عشا کی نماز کے بعد گیارہ ،گیارہ سو مرتبہ ’’یا غنی ‘‘ کا ورد کریں ۔ اللہ تعالی کے فضل کرم سے ان کے رزق میں بے پناہ اضافہ اور برکت آجائے گی ۔

یہ مجرب وظیفہ رزق اور بندش کے خاتمہ کیلئے نہایت بہترین ہے ، کوئی بھی دکاندار اور تاجر دفتر کھولنے سے پہلے ستر مرتبہ ’’یا غنی‘‘ پڑھے گا تو انشااللہ اللہ پاک کاروبار میں برکت اور رزق میں اضافہ ہو گا اور کبھی بھی کسی نقصان کا خوف نہیں رہے گا ۔

جمعرات اور جمعہ کی شب اس اسم شب اس اسم مبارک ’’یا غنی ‘‘ کو انیس ہزار مرتبہ پڑھنے اور عمل کو جاری رکھنے سے انسان کو غیب سے دولت ملتی ہے ۔اوربہت جلد کاروبار میں ترقی ہوگی اور رزق حلال کہاں کہاں سے آئے گا کہ عقل دنگ رہ جائے گی

بیوی کی بے صبری حضرت حبیب عجمی کی بی بی بدخلق تھیں،ایک دن شوہر سے کہنے لگیں اگر اللہ تعالیٰ تمہارے پاس کوئی فتوحات (مال وغیرہ) نہیں بھیجتا تو پھر مزدوری کر لوتاکہ گھر میں اخراجات پورے ہوں،

حضرت اہلیہ کی بات سن کر جنگل میں تشریف لے گئے اور دن بھر عبادت الٰہی میں مصروف رہ کر شام کو گھر تشریف لے گئے مگر گھر داخل ہوتے ہی اہلیہ نے ایک ہی سوال کیا کہ مزدوری کہاں ہے؟

فرمایا خواہ کسی بھی معاملہ میں ہو بے فائدہ ہے لہٰذا جب بھی کوئی خلاف طبیعت ناگوار بات سامنے آئے یا خوشگوارواقعہ پیش آئے یا پھر حالات ناسازگار ہوں تو صبر کا دامن نہ چھوٹنے پائے بلکہ تقدیر کے فیصلہ پر دل سے راضی رہنا اور صبر کرناہی مسلمان کی شایان شان ہے۔ روایت ہے کہ حضرت حبیب عجمی کی بی بی بدخلق تھیں،

ایک دن شوہر سے کہنے لگیں اگر اللہ تعالیٰ تمہارے پاس کوئی فتوحات (مال وغیرہ) نہیں بھیجتا تو پھر مزدوری کر لوتاکہ گھر میں اخراجات پورے ہوں، حضرت اہلیہ کی باتسن کر جنگل میں تشریف لے گئے اور دن بھر عبادت الٰہی میں مصروف رہ کر شام کو گھر تشریف لے گئے مگر گھر داخل ہوتے ہی اہلیہ نے ایک ہی سوال کیا کہ مزدوری کہاں ہے؟

فرمایا کہ میں جس آقا کا مزدور ہوں وہ بے حد سخی ہے، اس سے مزدوری کا سوال کرتے ہوئے مجھے حیا آتی ہے، چنانچہ کئی دن تک یونہی سلسلہ سوال و جواب کا چلتا رہا، یہاں تک کہ اہلیہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا اور وہ اپنے شوہر کی بات کو نہ سمجھ سکی۔

بالآخر ایک دن مطالبہ کیا کہ یا تو اپنے آقا سے مزدوری کا مطالبہ کرو یا پھر کسی اور کی ملازمت و مزدوری کرو، کہا کہ اچھا آج مزدوری لاؤں گا حسب سابق دن بھر جنگل میں عبادت میں مصروف رہ کر جب شام کو لوٹے تو انتہائی پریشان اور رنجیدہ خاطر تھے کہ بیوی کو کیاجواب دوں گا؟

اسی پریشانی کے عالم میں جب گھر داخل ہوئے تو حیران انگشت بدندان رہ گئے کہ گھر کا نقشہ بدلا ہواہے تنور میں روٹیاں پک رہی ہیں اور اہلیہ محترمہ خوش و خرم، ہشاش بشاش شوہر کو دیکھتے ہی کہنے لگی واقعی آپ جس کی مزدوری کرتے ہیں

وہ آقا بے انتہا سخی ہے اور اس نے ہم سے اپنی سخاوت کے مطابق معاملہ کیا ہے،اور تمہارے مستاجر نے کریموں کی سی اجرت روانہ کی ہے اور اس کے قاصد نے پیغام دیا کہ حبیب سے کہو کہ عمل میں زیادہ کوشش کرو اور یہ نہ سمجھو کہ ہم نے اجرت میں جو تاخیر کی ہے وہ اس لیے کہ ہمارے پاس کچھ ہے نہیں اور نہ یہ بات ہے۔

کہ ہم بخیل ہیں، تم اپنی آنکھیں ٹھنڈی اور دل خوش رکھو، پھر بیوی نے چند توڑے دیناروں کے بھرے ہوئے دکھائے جنہیں دیکھ کر حضرت بہت روئے،اور پھر بیوی کو حقیقت سے آگاہ کیا کہ یہ اجرت اللہ تعالیٰ نے بھجوائی ہے اور بیوی کو آگاہ کیا کہ یہ اس کی بے صبری کا نتیجہ ہے یہ سن کر بیوی نے اپنی بے صبری سے توبہ کی آئندہ شوہر کو ایسی تکلیف نہیں دے گی۔

(قصص الاولیاء) بہرحال بے صبری اللہ کو ناپسند ہے اگر گھر میں کھانے پینے، رہنے سہنے کی تکلیف ہو تو بجائے شوہر کو ستانے یا پریشان کرنے کے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے جائیں تو اس سے انشاء اللہ اطمینان و سکون حاصل ہو جائے گا