قرآن مجید کی ایک آیت جس کو پڑھنے پر اسی سال حج کا غیب سے بلاوا آجاتا ہے

خواہش طلب اور تڑپ پر تو ثواب مل ہی رہا ہے نیز جو دعائیں کر رہے ہیں وہ بھی ضائع نہیں ہوں گی ان شاء اللہ۔ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مرضی سے ہی وجود میں آتا ہے بندہ کا کام عاجزی اور انکساری کے ساتھ شوق و طلب کا اظہار کرنا ہے اور اللہ کی مرضی پر راضی رہے۔جو دعا کر رہے ہیں وہی کریں مایوس نہ ہوں۔ یا تو اصل مطلوب مل جاتا ہے یا اس سے بہتر کوئی چیز مل جاتی ہے یا دعا کے بدلے مصیبت پریشانی دور ہو جاتی ہے یا آخرت کا ذخیرہ بن جاتا ہے پس دعا کسی حال میں بھی رائگاں نہیں ہوتی۔بعض حضرات حرمین شریفین کی حاضری نصیب ہونے کی بہت دعائیں کرتے ہیں

لیکن انکی مراد قبول نہیں ہورہی ہوتی ۔اس خواہش کی تکمیل کے لئے وہ ہر اذان کے وقت اذان کا جواب، اذان کے بعد کی مسنون دعا، درود شریف اور پھر اس کے بعد تین مرتبہ تلبیہ پڑھ لیا کریں تو یہ حج کی مقبولیت کا مجرب عمل ہے۔البتہ سورہ حج کی آخری آیت یا رکوع یا سورہ فتح کی 27 ویں آیت 21 دفعہ مسئلہ مکمل ہونے تک پڑھی جاسکتی ہے ۔اس سے دیرینہ خواہش پوری ہوجاتی ہے۔ آپ صلاة الحاجة پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے دعا کریں، اور بعد نماز عشا گیارہ بار درود شریف پڑھ کر گیارہ سو گیارہ مرتبہ یَا لَطِیْفُ پڑھیں، پھر گیارہ بار درود شریف پڑھ کر حج کی منظوری کے لیے دعا کریں۔ حج اسلام کا پانچواں اہم ترین رکن ہے جس کی فرضیت کا حکم قرآن حکیم میں موجود ہے: