حضور ﷺ فتح خیبر سے واپس آ رہے تھے کہ راستے میں۔۔۔

فتح خیبر کے بعد حضور ﷺ واپس آ رہے تھے کہ راستے میں آپ کی خدمت میں ایک گدھا حاضر ہوا ور عرض کرنے لگا حضور ﷺ میری عرض بھی سنتے جا ئیں رحمت عالم ﷺ اس مسکین جانور کی عرض سننے کو ٹھہر گئے اور فر ما یا بتاؤ کیا کہنا چاہتے ہو وہ بو لا میر ا نام یزید بن شہاب ہے میرے دادا کی نسل سے خدا نے ساٹھ گدھے پیدا کیے ہیں

ان سب پر اللہ کے نبی سوار ہو تے رہے اور میرے دل کی یہ تمنا ہے کہ مجھ مسکین پر حضور سواری فر ما ئیں اور یا رسول اللہ ﷺ میں اس بات کا مستحق بھی ہوں اور وہ اس طرح کے میرے دادا کی اولاد میں سے سوائے میرے کو ئی با قی نہیں رہا اور اللہ کے رسو لوں میں سے سوائے کو ئی باقی نہیں رہا ہے۔

حضور ﷺ نے اس کی یہ خواہش سن کر فر ما یا اچھا ہم تمہیں اپنی سواری کے لیے منظور فر ما تے ہیں اور تمہارا نام بدل کر ہم یعفور رکھتے ہیں جس دن آپ ﷺ کا انتقال ہوا اس دن یعفور کا رونا دیکھنے والا تھا وہ بے قرار ہو کر کبھی ادھر بھا گتا اور کبھی ادھر بھا گتا حتیٰ کہ اسے چین نہ آیا اور ایک کنو یں میں چھلا نگ لگا کر جان دے دی

رسول اللہ ﷺ جنت کا راستہ بتانے آ ئے رسول اللہ ﷺ جہ نم سے بچانے آ ئے بحر و بر جس کی نبو ت کے سامنے سر جھکا گیا جس دن آپ ﷺ پیدا ہو ئے دوسرے سمندر کی مچھلیوں کو جا کر مبارکباد دی کہ کا ئنات کا سردار آ گیا ساری دنیا کے بت زمین پر گر گئے بادشاہ کے تخت الٹے ہو گئے کیونکہ دو جہاں کا سردار آ گیا