روزے کی حالت میں مش ت زنی کرنے سے روزہ ٹوٹ جا تا ہے؟

آج رمضان المبارک کے متعلق باتیں کرنے والے ہیں تو چلیے چلتے ہیں کہ آج کیا سوال ہے اور اس کا کیا جواب ہے کیا روزے کی حالت میں مش ت زنی سے روزہ ٹوٹ جا تا ہے ؟

اگر کوئی شخص اس گ ن ا ہ کا ارتکاب کر تا ہے تو کیا ان کو صرف ایک روزے کی قضاء کرنی ہو گی یا اس طرح کے تمام روزوں کے لیے لگا تار کفارے کے روزے رکھنے ہوں گے تو چلیے چلتے ہیں اس کے جواب کی طرف۔ دیکھئے اگر کو ئی شخص روزے کی حالت میں مش ت زنی کر تا ہے تو مش ت زنی ایک کبیرہ گن اہ ہے ہر انسان کو اس سے بچنا چاہیے مش ت زنی کرنا جائز نہیں ہے بہت سخت گ ن ا ہ ہے

حدیثِ مبارکہ میں آتا ہے۔ کہ جن ہاتھوں سے یہ مش ت زنی کر تا ہے ان ہاتھوں سے ق ی ا م ت والے دن بچے پیدا کیے جا ئیں گے اس کے علاوہ بے شمار مسائل ہیں جو احادیث ہیں وہ مش ت زنی سے متعلق ہیں جس سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ مش ت زنی کر نا کبیرہ گ ن ا ہ ہے اگر آپ مش ت زنی کے عادی ہیں یا کو ئی شخص مش ت زنی کر تا ہے تو روزے کی حالت کے اندر تو اس کے بارے میں علماء فرماتے ہیں کہ روزہ ٹوٹ جا ئے گا منی نکل گئی اس کا روزہ ٹوٹ گیا ہاں البتہ جو روزہ ٹوٹا ہے صرف اسی روزے کی قضاء آ ئے گی یعنی کفارہ نہیں آ ئے گا کفارہ کیا ہو تا ہے۔

ساٹھ روزے رکھنا یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا نا تو یہ نہیں ہو گا بلکہ جس روزے میں انسان نے مش ت زنی کی ہو گی بس وہی روزہ ٹوٹے گا اور اس کے علاوہ وہ اس روزے کا کفارہ دے گا وہ روزہ ٹوٹ گیا تو اس کی منی بھی نکل گئی روزہ ٹوٹ گیا اور اس روزے کی قضاء آ ئے گی اور رمضان المبارک کے بعد وہ اس روزے کی قضا ء کر ے گا۔

مش ت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے خواہ یہ معلوم ہو کہ مش ت زنی ح رام ہے یا معلوم نہ ہو،اسی طرح اگر یہ بھی معلوم نہ ہوکہ روزہ کہ حالت میں مش ت زنی حرام ہے اور کرلی تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔

روزے کی حالت مش ت زنی سے صرف قضا لازم ہوتی ہے، کفارہ نہیں ۔ قضا کا یہ مطلب نہیں کہ ساٹھ روزے رکھنا لازم ہے بلکہ صرف ایک روزہ رکھنا ہے اور یہ مشکل نہیں۔ جو شخص روزہ نہ رکھ سکتا ہو وہ ایک صدقہ فطر ایک روزہ کے بدلے دیتا ہے مگرجب صحت مل جاتی ہے اور روزے کی قوت پیدا ہوجاتی ہے تو پھر روزہ ہی رکھنا ہوتاہے۔

البتہ مذکورہ گناہ سرزد ہونے پر صدق دل سے توبہ واستغفار لازم ہے تو ہمیں ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کر نا چاہیے۔

Leave a Comment