سبق آموز کہانی،سب سے بڑا بیوقوف) ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ میری سلطنت میں جو سب سے بڑا بے وقوف ہے اسے پیش کرو۔ )

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ میری سلطنت میں جو سب سے بڑا بے وقوف ہے اسے پیش کرو۔ بادشاہ بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔بادشاہ ہوتے ہیں حکم تھا۔۔۔۔۔عمل ہوا اور بے وقوف کے نام سے سینکڑوں لوگ پیش کر دئیے گئے۔ بادشاہ نے سب کا امتحان لیااور فائنل راونڈ میں ایک شخص” کامیاب بے وقوف” قرار پایا۔ بادشاہ نے اپنے گلے سے ایک قیمتی ہار اتار کر اس بے وقوف کے گلے میں ڈال دیا، وہ بے وقوف اعزاز پا کر گھر لوٹ گیا۔ ایک عرصے کے بعد وہ بےوقوف بادشاہ سے ملنے کے خیال سے آیا۔ بادشاہ مرض الموت میں آخری وقت گزار ریا تھا۔ بادشاہ کو بتایا گیا، بادشاہ نے اجازت دے دی۔بے وقوف حاضر ہوا ۔ بادشاہ سلامت آپ لیٹے ہوئے کیوں ہیں؟ بادشاہ مسکرایااور بولا میں اب اٹھ نہیں سکتا۔میں ایک ایسے سفر پر جارہا ہوں جہاں سے واپسی نہیں ہو گی۔ اور وہاں جانے کے لیے لیٹنا ضروری ہے۔

بے وقوف نے حیرت سے پوچھا واپس نہیں آنا۔ کیا ہمیشہ وہیں رہیں گے۔ بادشاہ نے بے بسی سے بولا ہاں ہمیشہ وہیں رہوں گا۔ تو آُپ نے تو وہاں بہت بڑا محل ، پڑے باغیچے ، بہت سے غلام اور بیگمات اور بہت سارا سامان عیش روانہ کر دیا ہو گا۔ بادشاہ رو پڑا ۔ بے وقوف نے حیرت سے بادشاہ کو دیکھا۔ اسے سمجھ نہ آئی کہ بادشاہ کیوں رو رہا ہے۔نہیں میں نے وہاں ایک جھونپڑی بھی نہیں بنائی۔ روتے ہوئے بادشاہ نے کہا۔ کیا ایسے کیسے ہو سکتا ہے؟ آپ سب سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ جب آپ کو پتا ہے کہ وہاں رہنا ہے تو ضرور انتظام کیا ہو گا بے وقوف نے کہا۔ افسوس صد افسوس کہ میں نے کوئی انتظام نہیں کیا۔ بادشاہ نے درد بھرے لہجے میں کہا۔ بے وقوف اٹھا اور اپنے گلے کا وہ ہار اتارا اوربادشاہ کے گلے میں ڈال کر بولا کہ پھر حضور اس ہار کے آپ مجھ سے زیادہ حقدار ہیں۔ تو آُپ نے اپنے لیے دوسرے جہان کے لیے کوئی جمع پونجی کر رکھی ہے یا پھر آُپ بھی بادشاہ کی طرح ہی ہیں جو اس دنیا کی ہر آسائش کو استمعال کرتا رہا لیکن جہاں ہمیشہ رہنا ہےاس جگہ کے لیے کچھ نہیں سوچا۔