کیا روز سحری میں انڈہ کھانا چاہئے

ویسے تو کہا جاتا ہے کہ سحری میں انڈا کھانے سے روزے کے دوران پیاس لگ سکتی ہے، اس کے باوجود بھی کئی افراد سالن یا کباب کھانے کے بجائے انڈے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔جیسے کہتے ہیں کہ ہر روز ایک سیب کھانے سے ڈاکٹرز کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑے گی ویسے ہی انڈوں کے لیے بھی یہ بات سامنے آگئی ہے کہ ان کا روزانہ استعمال ذیابیطس سے تحفظ دیتا ہے۔امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے۔امریکن یونیورسٹی میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق انڈوں کا روزانہ استعمال ذیابیطس ٹائپ ٹو میں مبتلا ہونے سے تحفظ دیتا ہے۔تحقیق میں مزید بتایا گیا ہے کہ ہفتہ بھر میں 4 انڈے کھانے والے شخص میں ذیابیطس کا خطرہ اس فرد سے 37 فیصد کم ہوتا ہے جو ہفتے میں ایک بار اس کو استعمال کرتا ہے۔تحقیق کے مطابق انڈوں کے روزانہ استعمال سے خون میں گلوکوز کا لیول کم ہوتا ہے جس سے ذیابیطس کا خطرہ بھی کم ہوجاتا ہے۔انڈہ کھانا ہماری صحت کے لئے بہت زیادہ ضروری ہے کیونکہ اس میں موجود ہائی پروٹین انسانی جسم کو طاقت دینے کے لئے سب سے زیادہ اہم ہے، مگر ماہرین غذائیت کہتے ہیں کہ کھانے کی ہر چیز کو ایک ترتیب سے کھائیں نہ بہت زیادہ کھائیں

اور نہ ہی بہت کم کھائیں کیونکہ اس میں آپ کے لئے کسی حد تک نقصان بھی ہوسکتا ہے . اور انڈوں کو بہت زیادہ کھانا بھی نقصان پہنچا سکتا ہے ۔انڈوں میں کیلوریز، اومیگا فیٹی ایسڈز، وٹامن اے، ڈی ، بی، آئیوڈین اور دیگر انزائمز پائے جاتے ہیں جو کہ آپ کو فائدہ پہنچاتے ہیں مگر آج ہم آپ کو گرمیوں میں انڈے کھانے کے نقصانات بتانے جا رہے ہیں. نقصانات: گرمیوں میں انڈے کھانے سے جلد پر آئل بڑھ جاتا ہے اور ایکنی کے مسائل حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں، اس کے علاوہ میلانن کا رنگ کمزور ہوجاتا ہے جس سے آپ کی رنگت پر بھی اثر پڑتا ہے. خواتین میں ماہواری کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم میں درد کی شکایت بڑھنے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔پروٹین سے بھرپور غذا کو بھی سحری کا حصہ بنانا چاہیے جن میں انڈے، چکن، دہی اور دالیں وغیرہ قابل ذکر ہیں، پروٹینز روزے دار کو جسمانی طور پر متحرک رہنے کے ساتھ ساتھ جسمانی توانائی کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔زیادہ پانی والی غذائیں اور مشروبات وغیرہ بھی سحری کا حصہ بنائے جاسکتے ہیں،

کھیرے، ٹماٹر اور پانی وغیرہ دن بھر میں جسمانی طور پر سست نہیں ہونے دیتے۔کیا نہیں کھانا چاہیے؟ایسی غذاؤں سے گریز کریں جو بہت زیادہ مرچوں یا مصالحے دار ہوں، ان کے استعمال سے سینے میں جلن یا معدے میں تیزابیت اور بدہضمی کا خطرہ بڑھتا ہے۔سحری میں زیادہ چائے پینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ کیفین سے جسم میں پانی کی سطح کم ہونے سے پیاس بڑھتی ہے۔اسی طرح نمکین غذاؤں سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جسم میں پانی کی کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔زیادہ میٹھی اشیاء کھانے سے بھی گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ بہت تیزی سے ہضم ہوتی ہیں جس سے کچھ گھنٹے بعد ہی بھوک لگنے لگتی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین