انٹرنیٹ کے مواد کی نگرانی اور غیر اخلاقی مواد حذف کرنے کی ڈیوٹی پر مامور شخص کے روزے کا حکم

سوال
میں انٹرنیٹ پر مواد کی نگرانی کی ملازمت کرتا ہوں تا کہ بچوں کی غیر اخلاقی مواد تک رسائی کو روکا جا سکے، میں ایسی ویڈیوز کو دیکھنے پر مجبور ہوتا ہوں کیونکہ میں نے اطمینان کرنا ہوتا ہے کہ ویڈیو کلپ میں غیر اخلاقی مناظر اور تشدد نہیں پایا جاتا، میں یہ فل ٹائم جاب رمضان میں بھی کرتا ہوں، تو کیا ایسے ویڈیو کلپ دیکھنے کے بعد بھی میرا روزہ صحیح ہے؟

جواب کا متن
الحمد للہ.

اول:

روزے کو اپنی سماعت اور بصارت دونوں کو حرام چیزوں سے بچانا ضروری ہے؛ جیسے کہ صحیح بخاری: (6057) میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جو شخص بھی خلاف شریعت بات کرنے، اس پر عمل اور جہالت سے باز نہیں آتا ، تو اللہ تعالی کو اس کے کھانے پینے چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں ہے۔)

اسی طرح مسند احمد: (8856) میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (کتنے ہی روزے داروں کے نصیب میں بھوک اور پیاس آتی ہے۔ کتنے ہی قیام کرنے والوں کے حصے میں صرف بے خوابی آتی ہے۔ ) مسند احمد کی تحقیق میں شعیب الارنؤوط کہتے ہیں کہ: اس حدیث کی سند جید ہے۔

اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ : (8882) میں ہے کہ: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: “روزہ محض کھانے پینے سے رکنے کا نام نہیں ہے، بلکہ جھوٹ، باطل، لغو باتوں اور فضول قسمیں اٹھانے سے بچنے کا نام ہے۔”

اسی سے ملتی جلتی روایت مصنف ابن ابی شیبہ : (8884) میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔

نیز مصنف ابن ابی شیبہ : (8883) میں میمون بن مہران رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ: ” صرف کھانے پینے کو ترک کرنا سب سے کم تر روزہ ہے”

اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ : (8888) میں ابراہیم نخعی سے مروی ہے کہ: “کہا کرتے تھے کہ جھوٹ بولنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔”

چنانچہ ابن حزم رحمہ اللہ اسی بات کے قائل ہیں کہ جان بوجھ کر کوئی غلطی کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے آپ “المحلى” (4/ 304) کا مطالعہ کریں۔

لہذا ایسا روزہ جو انسان کو حرام کاموں سے نہ روکے تو اس کا روزہ ناقص ہے۔

جیسے کہ ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“سلف صالحین کہا کرتے تھے: محض کھانا پینا ترک کر دینا سب سے کم تر روزہ ہے۔
اسی طرح جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: جب آپ روزہ رکھیں تو آپ کے ساتھ آپ کی سماعت، بصارت، زبان وغیرہ کا جھوٹ اور حرام کاموں سے بھی روزہ ہونا چاہیے؛ چنانچہ پڑوسی کو تکلیف مت دیں، دوران روزہ پورا دن اپنے آپ پر سکینت اور وقار قائم رکھیں۔ اس لیے روزہ خوری اور روزہ داری کا دن یکساں مت بنائیں۔۔۔
مسند امام احمد میں یہ بھی ہے کہ: عہد نبوی میں دو عورتوں نے روزہ رکھا، روزے کی وجہ سے پیاس کی بنا پر انہیں موت نظر آنے لگی، چنانچہ ان کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سامنے کیا گیا تو آپ نے منہ موڑ لیا، آپ کے سامنے پھر دوبارہ تذکرہ کیا گیا تو آپ نے ان دونوں کو بلا لیا، اور دونوں کو کہا کہ: (قے کرو) تو دونوں نے کافی مقدار میں پیپ، خون، کچ لہو اور کچا گوشت قے کرتے ہوئے باہر نکالا!! تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (ان دونوں نے اللہ تعالی کی حلال کردہ چیزوں سے روزہ رکھا اور حرام کردہ چیزوں سے روزہ توڑ لیا؛ ان میں سے ایک عورت دوسری کے پاس آ کر بیٹھی اور دونوں نے لوگوں کا گوشت کھانا شروع کر دیا) [یعنی غیبت کرنا شروع کر دی] ” ختم شد
ماخوذ از: “لطائف المعارف” صفحہ: ( 155)
نوٹ: مذکورہ حدیث ضعیف ہے۔

دوم:

ان ویڈیوز کے دیکھنے پر اگر شہوت جوش مارتی ہے ، اور تسلسل کے ساتھ دیکھنے کی وجہ سے منی خارج ہو جاتی ہے، تو اس بارے میں روزہ ٹوٹنے کے حوالے سے اہل علم کے دو موقف ہیں۔

جیسے کہ “الموسوعة الفقهية” (26/ 267) میں ہے کہ:
“حنفی، اور شافعی فقہائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ: آنکھوں سے دیکھنے اور خیالات لانے سے اگر منی یا مذی خارج ہو جاتی ہے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹے گا، جبکہ شافعی فقہائے کرام کے ہاں صحیح ترین موقف سے ہٹ کر یہ بھی موقف ہے کہ: جب کسی کی عادت بن جائے کہ نظروں کے غلط استعمال سے اسے انزال ہو جاتا ہے، یا پھر وہ تسلسل کے ساتھ نظروں کا غلط استعمال اتنا کرتا ہے کہ اسے انزال ہو جاتا ہے تو اس سے اس کا روزہ ٹوٹ جائے گا۔

مالکی اور حنبلی فقہائے کرام اس بات کے قائل ہیں کہ: مسلسل دیکھنے کی وجہ سے منی خارج ہو جاتی ہے تو اس سے روزہ فاسد ہو جائے گا؛ کیونکہ یہاں منی ایسے کام کی وجہ سے خارج ہوئی ہے جس سے وہ لذت حاصل کر رہا تھا، حالانکہ وہ اس کام سے بچ بھی سکتا تھا۔

لیکن خیالات کی وجہ سے منی خارج ہو جانے سے مالکی فقہائے کرام کے ہاں روزہ فاسد ہو جاتا ہے، تاہم حنبلی فقہائے کرام کے ہاں فاسد نہیں ہوتا؛ کیونکہ ان کے ہاں خیالات پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔” ختم شد

تاہم تسلسل کے ساتھ مذی خارج ہونے پر روزہ فاسد نہیں ہوتا۔

جیسے کہ مرداویؒ “الإنصاف” (3/ 302) میں کہتے ہیں:
“تسلسل کے ساتھ دیکھا اور انزال ہو گیا کا مطلب یہ ہے کہ تسلسل کے ساتھ دیکھا اور مذی خارج ہو گئی تو اس سے روزہ فاسد نہیں ہو گا۔ یہی موقف صحیح ہے ، اسی کے اکثر فقہائے کرام قائل ہیں۔ علامہ زرکشیؒ کہتے ہیں: یہ موقف بالکل ٹھیک ہے۔ اسی طرح الفروع میں ہے کہ: روزہ ٹوٹنے کا موقف فقہی موقف کے زیادہ قریب ہے، بالکل ایسے ہی جیسے ہاتھ کے چھونے سے منی خارج ہونے پر روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔” ختم شد

سوم:

آپ کو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ: یہ کام ہی چھوڑ دیں، اگرچہ آپ کی ڈیوٹی سے چھوٹے بچوں کی غیر اخلاقی مواد تک رسائی کو کم کیا جا سکتا ہے جیسے کہ آپ نے بھی ذکر کیا ہے؛ کیونکہ غیر اخلاقی ویڈیوز کے دیکھنے کی وجہ سے آپ کے دل پر اس کے یقینی طور پر منفی اثرات پڑیں گے، اس کا انکار ناممکن ہے، جبکہ نوجوان لڑکے جس قدر غیر اخلاقی مواد تک رسائی کر سکتے ہیں اس کی مقدار پابندی لگے ہوئے مواد سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے آپ کی اس ملازمت سے حاصل ہونے والا فائدہ کوئی بہت بڑا فائدہ نہیں ہے۔ ویسے بھی اپنے آپ کو نقصان سے بچانا دوسروں کا فائدہ کرنے سے مقدم ہوتا ہے