گھر میں ادرک رکھنے سے کیا ملتا ہے ؟

قدرتی جڑی بوٹیاں اپنے اندر اچھی صحت کی لاتعداد خوبیاں لیے ہوتی ہیں اسی لیے جیسے جیسے ان پر تحقیق آگے بڑھ رہی ہے ان کی بےشمار خوبیاں بھی سامنے آرہی ہیں اسی لیے اب نئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ادرک سے بنی چائے وٹامن سی سے مزین ہوتی ہے جو صحت کے لیے انتہائی مفید ہے۔متلی میں مفید: اگرکسی شخص کو سفر کے دوران متلی کی شکایت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ سفر سے پہلے ایک کپ ادرک کی چائے پیئے جو پورے سفر کے دوران اس کو متلی اور قے سے دور رکھے گی اور وہ سفرکا لطف اٹھا سکے گا۔معدے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے: ادرک کی چائے نظام ہاضمہ اور غذا کو جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتی ہے اور بالخصوص بہت زیادہ کھانے کے بعد اس چائے کو پینے سے پیٹ میں گیس کے باعث پیدا ہونے والے ابھار یا سوزش کو ختم کرتی ہے۔جلن کو دور کرنے والی: ادرک میں جلن پیدا کرنے والے عناصر کو ختم کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے جب کہ اس کے علاوہ ادرک کی چائے کا ایک کپ پٹھوں اور جوڑوں کے درد میں بھی آرام دیتا ہے۔سانس کی بیماری: ادرک کی چائے سینے کے جکڑنے اور شدید نزلے میں انتہائی مفید ہے جب کہ ماحولیاتی الرجی سے سانس کی تکلیف میں بھی ادرک کی چائے جادوئی کام کرتی ہے

۔دوران خوان کو بڑھاتی ہے: ادرک میں موجود وٹامنز، معدنیات اورامائنو ایسڈ جسم میں دوران خون کو بہتربنا کردل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کردیتا ہے جب کہ ادرک کی چائے آنتوں میں پیدا ہونے والی چکنائی کو بننے سے روکتی ہے جس سے دل کے دورے اور اسٹروک سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔خواتین کے مخصوص ایام میں مفید: ادرک کی چائے خواتین میں حیض کے دوران تکلیف سے بچاتی ہے۔ ادرک کی گرم چائے سے تولیہ بھگو کر اسے پیٹ پررکھیں اس سے تکلیف میں آرام ملتا ہے جب کہ اس کے ساتھ ایک کپ ادرک کے چائے میں شہد ملا کر پی لیں۔قوت مدافعت کو بڑھاتا ہے: ادرک کی چائے تکسید (اینٹی آکسیڈینٹ) کے عمل کے لیول کو کم کرکے قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے۔اسٹریس کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے:ادرک کی چائے انسانی دماغ کوسخت ٹینشن اور تناؤ میں بھی سکون دیتی ہے۔ماہرین طب کا کہنا ہے کہ اگر ادرک کی چائے کا ذائقہ ترش لگے تو اس میں شہد یا لیموں بنا کر اسے خوش ذائقہ بنا سکتے ہیں اردو میں ادرک، انگریزی میں جنجر، ہندی میں سونٹھ اور قرآن میں اسے زنجبیل کہا گیا ہے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول کریم کے پاس ادرک کا تحفہ آیا تو آپ نے اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے سب میں بانٹا اور کھانے کیلئے کہا۔

سو ادرک بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ یونانی طبیبوں نے کئی امراض میں اسے دوا قرار دیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ چینی بوٹی جن سنگ دراصل ادرک ہی کی قسم ہے۔ غذائیت کے اعتبار سے ادرک میں پوٹاشیم، مینگنیز، فاسفورس، کیلشیم، میگنشیم، وٹامن بی3 اور فولیٹ کی مقدار باقی منزل اور وٹامن کی نسبت زیادہ ہے۔ حکمت کے علاوہ جدید طبی سائنس اور غذائی ماہرین بھی ادرک کو روزمرہ غذا میں شامل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں جن میں ادرک کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اکثر لوگ اس کا قہوہ بنا کر روزانہ پیتے ہیں یا رات بھر ادرک اوردارچینی کا ٹکڑا پانی میں ڈال کر رکھ دیتے ہیں۔ سارا دن یہی پانی پیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ جوڑوں کے درد، بلڈ پریشر میں کمی اور وزن میں کمی کیلئے مفید ہے۔ ادرک، قے، متلی، بدہضمی کیلئے بہت مفید ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق سفر کے دوران قے، متلی اور طبیعت کی خرابی موشن سِکنس سے بچاﺅ کیلئے ادرک کو ڈریمامین دوا سے زیادہ موثر پایا گیا اس لیے ایسے افراد جنہیں دوران سفر ایسی علامات ہوں وہ ادرک کا ٹکڑا چبا لیا کریں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین