لائف انشورنس کی شرط پر قرض لینے کا حکم، اگرچہ انشورنس عملی طور پر نافذ نہ ہو

سوال
میں سرکاری ادارے میں کام کرتا ہوں، ادارے کی جانب سے گاڑی کی خریداری، مکان خریداری جیسی مختلف صورتوں میں قرض دیا جاتا ہے، اس قرض کی واپسی ماہانہ تنخواہ سے کٹوتی کر کے ہوتی ہے اور اس میں کسی قسم کا نفع نہیں لیا جاتا۔ قرضے کے اس معاہدے میں اشکال یہ ہے کہ جس معاہدے پر ہم دستخط کرتے ہیں اس میں ایک شق لائف انشورنس کی بھی ہے، حالانکہ وہ نافذ العمل بھی نہیں ہے، تو میں آپ سے امید کرتا ہوں کہ ایسے قرض لینے کا کیا حکم ہے؟

جواب کا متن
الحمد للہ.

اگر قرض حسنہ ہو تو گاڑی یا مکان کی خریداری کے لیے قرض لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، اس صورت میں قرض خواہ کو اجر بھی ملے گا۔

تاہم قرضے کو لائف انشورنس سے مشروط کرنا جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس سے حرام معاملے میں ملوث ہونا پڑتا ہے۔

دائمی فتوی کمیٹی کے فتاوی : (15/ 8 ) میں ہے کہ:
“زندگی کی انشورنس ، کمرشل انشورنس میں شامل ہوتی ہے اور یہ حرام ہے؛ کیونکہ اس میں جہالت ، دھوکا دہی، اور لوگوں کا مال باطل طریقے سے ہتھیانا شامل ہے۔
عبد اللہ بن غدیان، عبد الرزاق عفیفی عبد العزیز بن عبد اللہ بن باز” ختم شد
اس بارے میں مزید کے لیے آپ سوال نمبر: (30740) کا جواب ملاحظہ کریں۔

آپ نے بتلایا کہ زندگی کی بیمہ پالیسی کی شق پر عمل نہیں ہوتا، تو اگر اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو بیمہ پالیسی کے بغیر ہی قرض مل جاتا ہے، تو ایسی صورت میں قرض لینے پر کوئی حرج نہیں ہے، نیز معاہدے میں اس شرط کے پائے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا؛ کیونکہ اصل ممانعت تو انشورنس کروانے پر ہے، تو اگر آپ کو انشورنس کروانے پر مجبور نہیں کیا جاتا تو قرض لینے میں کوئی حرج نہیں ہے، یہاں انشورنس کا ذکر کالعدم ہے، اس لیے جب تک اس شرط پر عمل نہیں کیا جاتا تو اس معاہدے پر دستخط کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اس کے لیے سیدہ عائشہ کی حدیث سے دلیل مل سکتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں بریرہ کے واقعے میں فرمایا تھا: (تم بریرہ کو خرید لو اور اس کی ولاء کی شرط ان کے حق میں قبول کر لو؛ یقیناً ولاء تو اسی کے لیے ہوتی ہے جو غلام کو آزاد کرے) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسے ہی کیا، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کھڑے ہو کر لوگوں سے خطاب کیا اور حمد و ثنا کے بعد فرمایا: (بعد ازاں: کچھ لوگ ایسی شرائط لگانے لگے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں! کوئی بھی ایسی شرط جو کتاب اللہ میں نہیں ہے تو وہ باطل ہے، چاہے سو شرطیں ہی کیوں نہ ہوں، اللہ کا فیصلہ حق ہے، اور اللہ کی بتلائی ہوئی شرائط ٹھوس ہیں، اس لیے ولاء اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے) اس حدیث کو امام بخاری: (2168) اور مسلم : (1504)نے روایت کیا ہے۔

تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدہ عائشہ کو ایسی باطل شرط پر موافقت کی اجازت دی جس کو بعد میں ماننا ہی نہیں تھا۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
“ایک گروہ نے ایک تیسرا جواب بھی دیا ہے جو کہ امام احمد وغیرہ نے بھی ذکر کیا ہے کہ: لوگوں کو یہ معلوم ہو گیا تھا کہ ہماری یہ شرط ممنوع ہے، تو نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے منع کرنے کے بعد بھی انہوں نے اپنے اس معاملے کو جاری رکھا، اس لیے اس شرط کا پایا جانا کالعدم ہو گیا۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے سیدہ عائشہ کو فرمایا: آپ کا ان کے حق میں ولاء قبول کرنا آپ کو نقصان نہیں دے گا؛ کیونکہ آپ کے شرط قبول کرنے سے ولاء کی شرط لاگو نہیں ہو جائے گی؛ اس سے صرف اتنا ہو گا کہ مشتری بائع کو شرط لگانے کی اجازت دے رہا ہے کیونکہ بائع نے لونڈی فروخت کرنی ہی اس شرط کے ساتھ تھی، نیز مشتری کو بتلا دیا گیا کہ اس قسم کی شرط سے کوئی نقصان نہیں ہو گا۔ تو اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ انسان کو اس قسم کے معاملے میں ملوث ہونے کی اجازت ہے۔

ایسی شرائط کو قبول کرنے کا مطلب صرف خریداری کی رغبت کا اظہار ہے اگرچہ بائع اپنے تئیں شرط لگا رہا ہے۔ انسان ایسی شرط کو قبول کر کے ان کے ساتھ لین دین میں شامل تو ہوتا ہے لیکن یہ شرط مؤثر نہیں ہوتی۔

اسی حدیث میں یہ بھی ہے کہ اس قسم کی شرائط فاسد ہوتی ہیں ؛عقد فاسد نہیں ہوتا۔ یہی موقف درست ہے۔ اس کے قائلین میں ابن ابی لیلی سمیت امام احمد سے منقول دو روایتوں میں سے مضبوط ترین روایت بھی اسی موقف کے مطابق ہے۔” ختم شد
“مجموع الفتاوى” (29/ 338)

Leave a Comment