حضرت علی ؓ نے فر ما یا اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری کوئی دعا رد نہ ہو تو؟

حضر ت علی ؓ نے فر ما یا کہ ہر کسی کو اتنی اہمیت دو جتنی وہ تمہیں دیتا ہے اگر کم دو گے تو مغرور کہلا ؤ گے اور اگر زیادہ دو گے تو خود گر جا ؤ گے۔ کسی انسان کی خوبی کو پہچانوں اور اسے بیان کر و لیکن اگر کسی کی خامی مل جا ئے تو یہاں تمہاری خوبی کا امتحان ہے جو چغل خور کی بات پر اعتماد کر تا ہے وہ اپنے دوست کو اپنے ہاتھوں سے کھو دیتا ہے انسان کی اصل اس کی عقل ہے اور اس کی عقل اس کا دین ہے ہر انسان کی قیمت اس کی عقل کے مطا بق ہو تی ہے۔

اگر جا ہل خاموش رہتے تو لوگوں میں اختلاف نہ ہو تا اس شخص میں ہر گز دلچسپی نہ لو جو تم سے دوری اختیار کر تا ہو۔ انسان کی دو فضیلتیں ہیں۔ عقل اور زبان ۔ عقل سے فائدہ حاصل کر نا اور زبان سے فائدہ پہنچا نا ہے۔ جا ہل کے سامنے عقل کی بات مت کرو۔ پہلے وہ بحث کر ے گا پھر اپنی ہار دیکھ کے د ش م ن ہو جا ئے گا۔ جو چھوٹی مصیبتوں پر صبر نہیں کر تا اللہ تعالیٰ اسے بڑی آزما ئشوں میں مبتلا کر دیتا ہے اپنی ذات کو سمندر کی طرح بنا ؤ جو اپنے اندر بہت کچھ لینے کے باوجود اوپر سے بالکل پُر سکون ہو تا ہے۔

صبر ایک ایسی سواری ہے جو اپنے سوار کو گرنے نہیں دیتی نہ کسی کے قدموں میں اور نہ کسی کی نظروں سے اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری کوئی دعا رد نہ ہو جا ئے تو اپنے دن کا آغاز صدقہ دینے سے شروع کیا کرو۔ انسان کو اس کی برائیوں سمیت قبول کرنے والا اس کا سچا دوست ہو تا ہے ورنہ خوبیاں تو د ش م ن کو بھی متاثر کر تی ہیں اپنوں کو اپنے ہونے کا احساس دلاؤ ورنہ وقت آپ کے اپنوں کو آپ کے بغیر جینا سکھا دے گا۔ رسول اکرم ﷺ نے فر ما یا ! ان مو قعوں پر دعا مانگو رد نہیں ہو گی۔

جب دھوپ میں بارش ہو رہی ہو۔ جب اذان ہو رہی ہو۔ سفر کے دوران۔ جمعہ کے دن۔ رات کو جب آنکھ کھلے مصیبت کے وقت۔ فرض نمازوں کے بعد نبی کریم ﷺ نے ارشاد فر ما یا ! تم اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں دعا کرو کہ تم قبو لیت کا یقین کرو۔ اور یہ جان رکھو کہ اللہ تعالیٰ غفلت سے بھر ے دل سے دعا قبول نہیں کر تا! جابر ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ فرما تے ہیں ہر رات میں ایک گھڑی ایسی ہو تی ہےاس وقت جو آدمی اللہ سبحان و تعالیٰ سے دُنیا و آخرت کی بھلائی ما نگے، اللہ سبحان و تعالیٰ عطا کر ے اوریہ گھڑی ہر رات میں ہو تی ہے۔ اکثر لوگ دعا کرتے اور اسکے قبول نہ ہونے پر پریشان بھی ہوتے ہیں حالانکہ کسی کی دعا رد نہیں ہوتی ۔اسکی قبولیت کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے