جھوٹ کا فائدہ

ایک بادشاہ کی عدالت میں ایک ملزم کو پیش کیا گیا اور مقدمہ شروع ہوا مقدمہ ختم ہونے پر بادشاہ نے اس ملزم کو موت کی سزا سنا دی موت کی سزا سن کر وہ ملزم اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھا اور بادشاہ کو گالیاں دینے لگا بادشاہ اس ملزم کی زبان سے واقف نا تھا اس نے اپنے وزیر سے پوچھا کہ یہ ملزم کیا کہہ رہا ہے بادشاہ کا وزیر ایک نیک دل انسان تھا اس نے جواب دیا کہ یہ ملزم کہہ رہا ہے کہ جو لوگ اپنے غصے پر قابو کر لیتے ہیں اور لوگوں کو

اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں اﷲپاک ایسے لوگوں کو پسند کرتے ہیںوزیر کیبات سن کر دوسرا وزیر بول پڑا کہ بادشاہ سلامت آپ سے جھوٹ بولا گیا ہے یہ شخص در حقیقت آپ کو گا لیاں دے رہا تھااور آپ کی شان میں گستاخی کر رہا تھا،

بادشاہ اس کی بات سن کے مسکرایا اور کہا تیرے سچ کی بنیاد بغض اور کینہ ہے جبکہ دوسرے وزیر کی غلط بیانی نیک نیتی پر مبنی ہے اور پھر اپنے تمام وزیروں کے ہدایت کی کہ اگر بادشاہ اپنے وزیروں کی بات پر عمل کرتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ ہمیشہ پر خلوص اور اچھا مشورہ دیں یہ کہہ کر بادشاہ نے ملزم کی سزا بدل دی اور پہلے وزیر کو انعام سے نوازا۔