اگر کوئی مغرب سے قبل سو جائے اور اگلے روز فجر کے بعد اٹھے تو کیا اس کا اگلے دن کا روزہ صحیح ہو گا ؟

سوال
کل میں مغرب سے پہلے سو گیا، اور فجر کے بعد میری آنکھ کھلی، تو کیا میں آج کے دن روزہ رکھ سکتا ہوں یا نہیں؟

جواب کا متن
الحمد للہ.

اول:

مغرب کی نماز سے قبل سو کر آئندہ روز فجر کے بعد جاگنے والے شخص کا روزہ جمہور اہل علم کے ہاں صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ اس شخص کے رات کے حصے میں روزے کی نیت نہیں ہے، اور رات کا آغاز مغرب کے وقت سے ہوتا ہے۔

چنانچہ جمہور اہل علم ہر روز کی الگ سے نیت کرنے کو واجب قرار دیتے ہیں، لہذا ان کے ہاں مہینے کے آغاز میں ایک بار کی ہوئی نیت کافی نہیں ہے؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے: (جو شخص روزے کی نیت فجر سے قبل نہ کرے تو اس کا کوئی روزہ نہیں ہے۔) اس حدیث کو ابو داود: (2454) ترمذی: (730)، اور نسائی: (2331) نے روایت کیا ہے۔ نیز سنن نسائی میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ: (جو شخص فجر سے پہلے رات کے حصے میں روزے کی نیت نہ کرے تو اس کا کوئی روزہ نہیں) اس حدیث کو البانیؒ نے صحیح ابو داود میں صحیح قرار دیا ہے۔

نیت کرنے کا طریقہ انتہائی سہل ہے کہ اگر مغرب اور فجر کے درمیان کسی بھی وقت دل میں خیال آیا کہ صبح روزہ رکھنا ہے تو یہ اس کی روزے کی نیت ہو جائے گی، چنانچہ اگر کوئی شخص اس نیت سے کھا پی لیتا ہے کہ صبح اس نے روزہ رکھنا ہے تو اس کی نیت ہو گئی ہے۔

تاہم مغرب سے قبل سو جانے والا شخص ان امور میں سے کچھ بھی نہیں کر سکتا۔

لیکن دوسری طرف مالکی فقہائے کرام اور امام احمد سے ایک موقف کے مطابق پورے ماہ کے لیے ایک بار ہی آغاز رمضان میں نیت کرنا کافی ہے۔

تو اس موقف کے مطابق مغرب سے قبل سو جانے والے شخص کا روزہ صحیح ہو جائے گا۔

جیسے کہ ابن قدامہ رحمہ اللہ “المغنی” (3/ 23) میں کہتے ہیں:
“ہر روزے کی الگ نیت شمار کی جائے گی، اس موقف کے امام ابو حنیفہ، امام شافعی، اور ابن المنذر قائل ہیں۔

جبکہ امام احمد سے مروی ہے کہ جب کوئی پورے ماہ کے روزے رکھنے کی ایک بار ہی نیت کرے تو یہ ایک بار نیت کرنا کافی ہو گا، یہی موقف امام مالک اور اسحاق رحمہما اللہ سے مروی ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے روزوں کی نیت ایسے وقت میں کی ہے جب روزوں کی نیت کرنے کا مناسب وقت تھا، اس لیے پورے ماہ کی یکبارگی کی ہوئی نیت بھی اسی طرح صحیح ہو گی جیسے کہ ہر روزے کی نیت رات کے وقت کرنا جائز ہے۔

ہماری دلیل یہ ہے کہ : چونکہ رمضان کے روزے واجب ہیں، اس لیے ہر روزے کی رات کو نیت کرنا اسی طرح ضروری ہے جیسے کہ فرض روزوں کی قضا میں رات کے وقت نیت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

نیز اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ : ایک روزے کے فاسد ہونے سے پورے ماہ کے روزے فاسد نہیں ہوتے، نیز ہر روزے کے درمیان میں بہت سی ایسی چیزیں آتی ہیں جو روزے کے منافی ہیں ، تو اس کا حکم بھی قضا جیسا ہوا، لہذا پہلے دن کے روزے کا حکم دوسرے دنوں کے روزوں سے الگ ہو گا۔” ختم شد

تاہم ابن عثیمین رحمہ اللہ نے مالکی فقہائے کرام کے موقف کو راجح قرار دیا ہے:
“ہر دن کے روزے کے لیے الگ سے نیت کرے، یعنی روزہ رکھنے کے لیے روزانہ نئی نیت کرے، تو اس طرح رمضان میں ہر شخص کو 30 بار نیت کرنی پڑے گی۔

اس موقف کی بنا پر : اگر کوئی شخص عصر کے بعد رمضان میں سو جاتا ہے اور آئندہ روز طلوع فجر کے بعد ہی بیدار ہوتا ہے تو ایسے شخص کا اس دن کا روزہ صحیح نہیں ہو گا؛ کیونکہ اس نے رات کے کسی بھی حصے میں روزے کی نیت نہیں کی۔
مؤلف رحمہ اللہ نے جو موقف ذکر کیا ہے، یہی موقف حنبلی فقہائے کرام کے ہاں مشہور ہے۔

حنبلی فقہائے کرام کا کہنا ہے کہ: چونکہ روزہ ہر دن کا الگ اور مستقل عبادت ہے، یہی وجہ ہے کہ مثال کے طور پر: اتوار کے دن کا روزہ اس لیے فاسد نہیں ہو گا کہ سوموار کا روزہ فاسد ہو گیا تھا۔

جبکہ بعض اہل علم اس بات کے قائل ہیں کہ جن افعال میں تسلسل کی شرط ہے تو ایسے کام کے آغاز میں نیت کرنا کافی ہے بشرطیکہ کے درمیان میں کسی عذر کی بنا پر تسلسل منقطع نہ ہو، اگر منقطع ہو گیا تو نیت دوبارہ کرے گا۔

اس بنا پر اگر کوئی شخص رمضان کے آغاز میں پورا ماہ روزے رکھنے کی نیت کر لے تو اس کی یہ نیت پورے ماہ کے لیے کافی ہو جائے گی، چنانچہ کسی عذر کی بنا پر تسلسل منقطع ہو جائے مثلاً: رمضان میں سفر پر چلا جاتا ہے تو سفر سے واپسی پر روزے کی الگ سے نیت کرے گا، سفر سے واپسی پر تجدید نیت ضروری ہے۔

یہی موقف زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے؛ کیونکہ تمام کے تمام مسلمان اسی طرح نیت کرتے ہیں کہ میں ابتدا سے آخر تک تمام روزے رکھوں گا۔

چنانچہ اگر حقیقی طور پر ہر رات میں روزے کی نیت نہ بھی ہو تو حکماً ایسا ہی ہے کہ ہر رات نیت کی تجدید ہو ہی جاتی ہے؛ کیونکہ اصل یہ ہے کہ نیت ہو جانے کے بعد خود بخود منقطع نہیں ہوتی؛ یہی وجہ ہے کہ ہم نے کہا: اگر نیت میں تسلسل کسی مباح سبب کی وجہ سے منقطع ہو جائے اور وہ شخص دوبارہ روزہ رکھنے لگے تو لازمی طور پر تجدید نیت کرے۔

اس موقف پر دلی اطمینان حاصل ہوتا ہے، اور لوگوں کے لیے اسی پر آسانی سے عمل کرنا ممکن ہے۔”
ماخوذ از: “الشرح الممتع” (6/ 356)

تاہم محتاط یہی ہو گا کہ جمہور علمائے کرام کے موقف پر عمل کیا جائے کہ دن کا بقیہ حصہ اسی طرح بغیر کھائے پیے گزاریں، اور اس دن کی قضا دے دیں۔

یہاں یہ بات بھی واضح رہے کہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ اگر کوئی شخص مغرب سے پہلے سو جائے اور فجر طلوع ہونے تک سویا رہے، تاہم اگر کوئی شخص رات کے کسی بھی حصے میں تھوڑی سی دیر کے لیے بیدار ہو اور یہ نیت ذہن میں لے آئے کہ میں نے صبح روزہ رکھنا ہے تو تمام اہل علم کے ہاں متفقہ طور پر اس کا روزہ صحیح ہو گا۔

واللہ اعلم