کسی کی بینک سے رہن کے ذریعے خریدی گئی املاک کا مینجر بننے کا حکم

سوال. میرا سوال پراپرٹی مینجمنٹ کے معاہدے کے بارے میں ہے جو یہاں برطانیہ میں بہت مقبولیت حاصل کر رہا ہے اسے لیز پر دینا بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں کسی کی پراپرٹی (اس کی رضا مندی سے) کی ذمہ داری اٹھا کر ایک مینجر کی حیثیت سے کام کرنا ہوتا ہے۔

بحیثیت مینجر یا دلال ، میں کرایہ پر پراپرٹی کو لینے والے کرایہ داروں سے معاملات طے کرتا ہوں، اور اس کے عوض کرایہ کی آمدنی کا تھوڑا سا حصہ بطور انتظامی فیس حاصل کرتا ہوں۔

تاہم چونکہ یہاں کی زیادہ تر جائیدادیں رہن کے ذریعے خریدی گئی ہیں اس لیے میں اپنی انتظامی اجرت رہن کی ماہانہ اقساط کی ادائیگی اور تمام ماہانہ اخراجات پورے کرنے کے بعد نکالتا ہوں ۔ لہذا چونکہ میں رہن کی اقساط کی ادائیگی براہ راست نہیں کرتا ، نہ ہی رہن سے کماتا ہوں ، اور نہ ہی کسی بھی طرح سے رہن کے ذریعے ہونے والے تجارتی معاہدے میں شریک بنتا ہوں،

صرف اتنا ہے کہ میں ان املاک کے منیجر کی حیثیت سے کام کرتا ہوں ، کیا یہ صحیح ہے کہ میری اجرت والی فیس صرف اس صورت میں میرے لیے حلال ہو سکتی ہے جب مالک رہن کی مکمل ادائیگی کر دے، تو کیا موجودہ صورت حال میں میری اجرت والی فیس میرے لیے حرام ہے؟

جواب کا متن

الحمد للہ.

اول: جائیداد کا منتظم بن کر کام کرنا اور اسے کرائے کے ایک مقررہ تناسب کے عوض ، یا مخصوص رقم کے عوض لیز پر دینا جائز ہے ، چنانچہ یہ جائز وکالت اور دلالی والا معاہدہ ہے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں ذکر کیا ہے کہ:”باب ہے دلال کی اجرت کے بارے میں: ابن سیرین، عطاء، ابراہیم اور حسن بصری دلال کی اجرت میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ: یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے کہ: یہ کپڑا تم فروخت کر دو ، اتنی قیمت سے زیادہ جو بھی ہو گا وہ تمہارا ہو گا۔

ابن سیرین کہتے ہیں کہ: جب کوئی کہے کہ: اس چیز کو اتنی قیمت میں فروخت کر دو، تو جو نفع ہو گا وہ تمہارا، یا ہم آپس میں تقسیم کر لیں گے، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے، ویسے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے کہ: (مسلمانوں اپنی شرائط پر قائم رہتے ہیں۔) ” ختم شد

شیخ ابن باز رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ: کسی دکان یا مکان کے لیے معاوضہ لے کر کرایہ دار تلاش کر کے دینے کا حکم کیا ہے کہ جو کرایہ دار لے کر آئے گا اسے مخصوص اجرت ملے گی؟

تو انہوں نے جواب دیا: “اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، کیوں کہ یہ اجرت ہے اور اسے محنتانہ بھی کہا جاتا ہے ، اس لیے آپ کو اس شخص کے لیے موزوں اور مناسب کرائے کی دکان تلاش کرنے میں محنت کرنی ہو گی ۔ چنانچہ اگر آپ اس کی مدد کریں اور اس کے لئے مناسب دکان تلاش کر دیں ، پھر مالک دکان کے ساتھ کرایہ طے کرنے میں بھی مدد کریں، تو ان شاء اللہ یہ سب ٹھیک ہے۔

تاہم یہ شرط ہے کہ خیانت یا دھوکہ دہی نہ ہو بلکہ مکمل صداقت اور امانت کے ساتھ معاملہ طے پائے، لہذا اگر آپ مالک اور کرایہ دار دونوں کے ساتھ مخلصانہ انداز میں پوری امانت داری کے ساتھ بغیر کسی دھوکا دہی اور نا انصافی کے تعاون کرتے ہیں تو ان شاء اللہ آپ اچھا کام کر رہے ہیں۔”
“فتاوى شیخ ابن باز” (19/358)

نیز اگر اجرت کرائے کا کوئی خاص حصہ ہے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے ، کیوں کہ یہاں لاعلمی ایسی ہے کہ آخر کار اس کا علم ہو ہی جانا ہے اور اس میں کسی کے لیے کوئی تنازعہ بھی پیدا نہیں ہو گا۔

جیسے کہ “فتاوى اللجنة الدائمة” (13/131) میں ہے کہ: “دلال چیز کی قیمت فروخت میں سے مخصوص تناسب کے حساب سے دلالی کی اجرت وصول کر سکتا ہے، یہ جائز ہے۔ یہ رقم خریدار یا فروخت کنندہ میں سے کسی کو نقصان پہنچائے بغیر حسب ضابطہ کسی سے بھی وصول کر سکتا ہے” ختم شد

تاہم دلالی کے لیے یہ شرط ہے کہ کسی حرام کام کے لیے تعاون نہ ہو، مثلاً: دلالی سودی بینک سے پراپرٹی کرائے پر لینے کے لیے نہ ہو، یا کلیسا اور مے خانہ بنانے کے لیے کرائے پر جگہ لینے میں دلالی نہ کرے؛ کیونکہ گناہ اور نافرمانی کے کاموں میں تعاون حرام ہے، جیسے کہ اللہ تعالی کا فرمان ہے:وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ

ترجمہ: نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون مت کرو، تقوی الہی اپناؤ؛ یقیناً اللہ تعالی سخت سزا دینے والا ہے۔[المائدة:2]

اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: (جو شخص کسی کو نیکی کی طرف دعوت دیتا ہے تو اس کے لیے ان لوگوں جیسا اجر بھی ہو گا جو اس کی پیروی میں چلے، نیز ان لوگوں کے اجر میں بالکل بھی کمی نہیں آئے گی، اور جو شخص بھی گمراہی کی جانب دعوت دے تو اس پر ان لوگوں جیسا گناہ بھی ہو گا جو اس کی پیروی میں لگے رہے، ان لوگوں کے گناہ میں بھی اس سے کوئی کمی نہیں آئے گی۔) مسلم: (4831)

دوم: گھر اور دیگر چیزیں اس انداز سے خریدنا جائز نہیں ہے کہ جس میں پھر دوبارہ انہی چیزوں کو رہن رکھوایا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ سود کی واضح اور قبیح صورت ہے ، اور اس کی وضاحت پہلے سوال نمبر (159213) کے جواب میں گزر چکی ہے۔

لیکن جو شخص مذکورہ سودی رہن پر مبنی قرض کے ذریعے مکان خریدتا ہے تو یہ مکان اس شخص کی شرعی طور پر ملکیت میں شامل ہو گیا ہے اگرچہ اسے سود کا گناہ ہو گا اور اسے توبہ کرنی پڑے گی ،نیز اسے اپنے گھر میں رہائش رکھنے یا اسے اجرت پر دینے یا اسی طرح کسی اور طریقے سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہو گی۔

اس بنا پر: جس چیز کو رہن کے ذریعے خریدا گیا تھا اس چیز کو کرائے پر دیتے ہوئے نمائندگی کرنے میں آپ پر کوئی حرج نہیں ہے ، اور اس سے آپ پر کوئی ضرر نہیں ہو گا کہ مالک؛ رہن کا سودی قرض ادا کرنے کے بعد آپ کو آپ کی اجرت دیتا ہے ، بشرطیکہ آپ اس سودی قرض میں حصے دار نہ ہوں، اور نہ ہی آپ نے اس کے لیے کوئی تعاون پیش کیا ہے۔

واللہ اعلم