سوتے وقت روح کہاں پرواز کرتی ہے حضرت علی ؓ کا ارشادپاک سنو روح کی طاقت پہچانو

ایک مرتبہ حضرت علی ؓ نماز جمعہ کی تیاری فرما رہے تھے خطبہ شروع ہوا تو آپ ؓ روھ کے بارے میں اہم ارشادات فرمانے لگے یہ بات شروع ہی ہوئی تھی کہ ایک شخص حضرت علی ؓ سے کہنے لگا یا علی ؓ یہ انسان کی روح ہوتی ہے جب انسان سو جاتا ہے تو کیا یہ جسم سے جدا ہوتی ہے تو حضرت علی ؓ نے اس بات کے جواب میں فرمایا تمہارے جسم اور ہر انسان کے جسم میں جو روح اللہ تعالیٰ نے ڈالی ہے یہ تین حصوں میں تقسیم ہے پہلا حصہ انسانی جسم میں رہتا ہے

اور دوسرا حصہ انسان کے وجود سے باہر یعنی برزخ میں اپنے آپ کو دیکھ رہا ہوتا ہے ۔جبکہ روح کا تیسرا حصہ انسان کے جسم سے جدا ہوتا ہے وہ تب جدا ہوتا ہے جب انسان سو جاتا ہے ۔لہذا اگر وہ انسان نیک وکار ہے اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرتا ہے جب روح جسم سے جدا ہوتی ہے وہ ایسے عالم میں جاتی ہے جہاں پر اللہ تعالیٰ نے جنات اور انسانی روحوں کے مابین ایک راستہ بنایا ہوتا ہے یہ روح جب وہاں پہنچ جاتی ہے تو انسان کو خواب آنے لگتے ہیں وہاں اس روح کو جو آگے دنیا میں پیش ہونے جارہا ہوتا ہے خواب میں آنا شروع ہوجاتے ہیں اگر انسان گنہگار ہے۔

اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے وہ لوگوں پر ظلم کرتا ہے اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر نہیں چلتا تو اس کی روح جسم میں قید ہوجاتی ہے اور خواب میں کچھ نظر نہیں آتا ہے اگر انسان نیک ہے اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار ہے تو اللہ تعالیٰ اسے ایک علم عطاء کرتا ہے جسے علم نائلہ کہتا ہے اس علم میں ایسی طاقت ہے کہ اگر انسان جب چاہے جہاں مرضی جاسکتا ہے اور اپنے تصور میں کسی بھی حالت میں اس کو دیکھ سکتا ہے

یہ تبھی ممکن ہوتا ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کے قریب رہتا ہے اس کی اطاعت کرتا ہے اس کے حکم کو بجا لاتا ہے جب یہ علم نائلہ اپنے بلند ترین مقام کو پالیتا ہے تو انسان جب چاہے جہاں چاہے جا سکتا ہے ۔ لہذا اس کو ہر شے کی قید سے آزادی مل جاتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس سے اس قدر راضی ہوتا ہے کہ اسے یہ علم عطاء کرتا ہے

اور حضرت علی ؓ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے علم کے خزانے انسانوں کیلئے کھول کر رکھ دیے ہیں مگر افسوس انسانوں کی اپنی غفلت کیوجہ سے وہ اس نعمت سے یعنی علم کے خزانوں سے بہت دور ہیں ۔ نیند کے دوران روح کا بدن سے نکلنا اس حوالے سے قرآن پاک میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔

سورۃ الزمر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرلیتا ہے اور ان جانوں کو موت نہیں آئی ہے ان کی نیند کی حالت میں ان کو روک لیتا ہے جن پر موت کا حکم صادر ہوچکا ہے اور دوسری جانوں کو مقررہ وقت تک چھوڑے رکھتا ہے بے شک اس میں ان لوگوں کیلئے نشانیاں جو غور وفکر کرتے ہیں ۔

روح کی دو قسمیں ہیں ایک حیوانی اور دوسری سیرانی حیوانی وہ ہے جو نیند کی حالت میں بھی موجود رہتی ہے اس لیے انسان زندہ رہتا ہے اگر یہ چلی جائے تو انسان مرجاتا ہے جسم سے فقت رابطہ توڑا جاتا ہے دوسری روح کی قسم ہے وہ ہے سیرانی یعنی نیند کے وقت نکل جاتی سیر کرتی رہتی ہے پھر انسان خواب میں جو کچھ دیکھتا ہے وہ اس روح کی مدد سے دیکھتا جو گھومتی پھرتی رہتی ہے انسان جب نیند سے بیدار ہوتا ہے تو یہ روح بھی واپس آجاتی ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔

اور روح بھی مخلوقات کی ہر طرح کی ایک مخلوق اس حقیقت وغیرہ کا علم اللہ تعالیٰ کی خصوصیت ہے جس طرح حدیث پاک میں ہے عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں ایک دن نبی کریمﷺ کے ساتھ ایک کھیتی میں تھا اور نبی کریمﷺ کھجور کی چھڑی پر سہارا لیے ہوئے تھے اچانک وہاں سے یہودیوں کا گزر ہوا ایک دوسرے کہنے لگے کہ ان سے روح کے بارے میں سوال کرو تو وہ کہنے لگا کہ تمہاری کیا رائے کہ اس کے پاس چلیں تو ایک نے کہا نہیں کہیں وہ ایسی بات نہ کہہ دے کہ جسے تم ناپسند کرتے ہو

وہ کہنے لگے کہ اس سے پوچھو تو انہوں نے نبی کریمﷺ سے روح کے بارے میں سوال کیا تو نبی کریمﷺ نے خاموشی اختیار کی اور جواب نہیں دیا تو مجھے یہ علم ہوگیا کہ آپ پر وحی کا نزول ہورہا ہے تومیں اپنی جگہ پر ہی کھڑا ہوگیا ۔ وحی کا نزو ل ہوچکا تو نبی کریمﷺ نے فرمایا اور وہ آپ سے روح کے بارے میں سوا ل کرتے ہیں آپ کہہ دیں کہ روح میرے رب کا حکم ہے اور تمہیں تو بہت ہی کم علم دیا گیا ہے ۔