سحری میں دہی کے ساتھ یہ انمول موتی کھاؤ دن بھی اچھا گزرے گا اور روزہ بھی نہیں لگے گا

جن لوگوں کو دودھ ہضم نہیں ہوتا یا جنہیں دودھ پسند نہیں ان کے لیے دہی بے حد مفید ہے ۔کیلشیم ، پروٹین اور پروبائیوٹک اجزا سے بھرپوردہی دودھ سے بنے والی ایک بہترین غذا ہے جس میں کیلشیم ، پروٹین اور پروبائیوٹک کثیر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔اسے ڈیری پراڈکٹس کا سپر ہیرو بھی کہا جاسکتا ہے ۔ کھانے میں اس کا استعمال عام ہے ۔

دہی سے جسم کو بے شمار فوائد حاصل ہو تے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک مکمل غذا ہے ۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دودھ سے بھی زیادہ فائدہ مند ہے ۔دہی صدیوں سے انسانی غذا کا حصہ رہا ہے۔ یہ انسان کی قوت مدافعت کو بڑھا دیتا ہے جو اسے تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھتی ہے ۔ انسان کی قوت مدافعت جتنی زیادہو گی وہ اتنا ہی بیماریوں سے محفوظ رہے گا۔دہی سے معدے کی کئی تکالیف سے نجات ملتی ہے ۔

یہ جسم میں پی ایچ بیلنس برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے ۔دہی معدے میں تیزابیت ہونے سے بچاتا ہے۔اس میں موجود ضروری غذائی اجزا آسانی سے انہضامی نالی میں جذب ہو جاتے ہیں ۔یہ دیگر غذاؤں کی بھی ہضم ہونے میں معاونت کرتا ہے ۔دہی میں موجود کیلشیم جسم میں کارٹیسول بننے سے روکتا ہے۔ کارٹیسول کی وجہ سے ہائپر ٹینشن اور موٹاپے جیسے مسائل پیش آتے ہیں ۔

ایک تحقیق کے مطابق اگر روزانہ 18 اونس دہی کھایا جائے تو یہ پیٹ کی چربی پگھلانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔ یہ فیٹس کے خلیات میں سے کارٹیسول کے اخراج کو روکتا ہے اور بڑھتے وزن کو کنٹرول کرتا ہے ۔دہی میں موجود کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کو مظبوط بناتے ہیں ۔ دہی کا مستقل استعمال آسٹوپروسس کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔

ہر پکوان کی رونق پاکستان کے ہر حصے میں دہی روز مرہ کے کھانوں میں استعمال ہوتا ہے۔دہی بانس کی ٹوکری میں جمائی جاتی تھی۔ بانس کی ٹوکری کی تہہ میں انگشت بھر چوڑی یعنی چار روز پرانی دہی لیپ دی جاتی تھی

پھر شکر ملا دودھ دہی کا چمن ملا کر اس پر ڈالا جاتا تھا پھر ملائی کی ایک موٹی تہہ۔ ٹوکری کو گرم جگہ پر رکھ کر نیچے ایک برتن رکھ دیا جاتا تھا کہ پانی اس میں گرتا رہے اور دہی جم جانے پر استعمال ہو۔اس میں کیلشیم، فولاد، زنک، پوٹاشیم، فاسفورس، میگنیشیم پایا جاتا ہے جو انسانی جسم کی صحت کے لیے ضروری عناصر ہیں۔دہی کو جلد اور بالوں پر لگایا بھی جاتا ہے ۔

جلد اور بالوں کو خوبصورت بنانے والے کئی گھریلو ٹوٹکوں میں دہی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔اگر صرف دہی سے ہی چہرے کا مساج کیا جائے تو یہ وائٹننگ بلیچ کا کام کرتا ہے۔

اس سے جلد نرم و ملائم ہو جاتی ہے ۔یہ بالوں کی صحت اور مضبوطی کے لئے تو مفید ہے ہی، اس سے بالوں کی خشکی بھی دور ہوجاتی ہے ۔ دہی میں موجود لیکٹک ایسڈ خشکی پیدا کرنے والے فنگس کو ختم کرتا ہے ۔ اس کے علاوہ اسے کنڈشنر کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔ہڈیوں کی مضبوطی کا ضامنآئر لینڈ کے ماہرین نے کہا کہ دہی کا استعمال بڑھوتری تک ہڈیوں کی مضبوطی کا ضامن ہے۔

ماہرین کی تحقیق کے مطابق دہی میں انسانی جسم دوست بیکٹریا اور اہم غذائی اجزاءپائے جاتے ہیں اور اس کے استعمال سے بڑھوتری تک ہڈیاں مضبوط رہتی ہیں جس سے انسان صحت مند اور تندرست و توانا رہ سکتا ہے۔اسی طرح سحری میں دہی کے ساتھ کلونجی کا آدھا چمچ استعمال کرنے سے سارا دن بھوک پیاس بھی نہیں لگے گی اور روزہ میں نقاہت و کمزوری بھی محسوس نہیں ہو گی ۔

سخت گرمی میں بھی آپ تندرست و توانا رہیں گے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین