رمضان میں ایک گلاس پانی کا وظیفہ

فجرکے قریب سحری کھانا سنت ہے اور یہ کھانا برکت والا ہے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے: سحری کھایا کرو، کیوں کہ سحری کا کھانا برکت والا ہوتاہے۔حضرت زید بن ثابت فرماتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی، پھر ہم نماز کے لیے کھڑے ہوگئے ۔کسی نے دریافت کیا کہ سحری اور نماز میں کتنا فاصلہ تھا ؟

حضرت زید بن ثابت نے فرمایا: جتنی دیر میں پچاس آیات پڑھی جائیں۔جب فجرکے وقت مؤذن کی آواز سنیں تو اس کے ساتھ اذان کے الفاظ دہراتے جائیں ،پھر یہ دعا پڑھیں: اللّہم ربَّ ہذہ الدَّعوة التَّامَّة والصلاةِ القآئمةِ آتِ محمَّداً الوَسیلة َوالفَضیلة وَابعثہُ مقاما محموداً الذی وعدتہ ․اس دعا کے پڑھنے سے قیامت کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب ہونے کی بڑی امید ہے ۔

جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں بشارت آئی ہے۔بیہقی کی روایت میں اس دعا کے آخر میں یہ الفاظ بھی ہیں :إنک لاتخلف المیعاد ․ لہٰذا ان کلمات کو بھی شامل کرلینا بہتر ہے۔اس کے بعد فجر کی دو سنتیں اداکریں، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے : رکعتا الفجر خیر من الدنیا وما فیہا ․ فجر کی دو سنتیں دنیا وما فیہا سے بہترہیں۔اذان واقامت کے درمیان دعا مانگیں ․

رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے : الدعاء لایُرد بین الأذان والإقامة ․اذان واقامت کے درمیان دعا رد نہیں ہوتی۔یہ فضیلت خواتین بھی حاصل کریں، نماز کی جگہ بیٹھ کر ذکر اللہ میں مشغول رہیں، اس کے بعد اشراق کی دو رکعتیں پڑھ لیں اور حج وعمرہ کا ثواب مفت میں کمائیں۔اگر آرام کریں تو یہ نیت کرلیں کہ جسمانی اور دماغی تھکاوٹ دور ہوگی تو دوبار ہ اللہ تعالی کی عبادت میں مشغول ہو جاؤں گا تو یہ آرام بھی عبادت میں لکھا جائے گا ۔

اور اگرڈیوٹی پر جانا ہو تو یہ نیت کرلے کہ رزق حلال کماؤں گا اور اہل وعیال کے حقوق ادا کروں گا تو ڈیوٹی کے تمام اوقات بھی عبادت میں لکھے جائیں گے، البتہ یہ خیال رہے کہ اس دوران زبان آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور تمام اعضا گناہوں سے محفوظ رہیں، خاص کر غیبت، جھوٹ، تمسخر اور ایذا رسانی اور بد نظری سے پور ااجتناب کرے۔یہی فضیلت تاجرکو بھی ملے گی ،اگر نیت درست ہو، رزق حلال حاصل کرنے کی نیت ہو تجارت میں جھوٹ ا ور خیانت اور وعدہ خلافی سے بچے ۔

اور دینی علوم حاصل کرنے والے طالب علم کو بھی یہی فضیلت ملے گی ،بشرطے کہ علم حاصل کرنے کا مقصد اللہ تعالی کو راضی کرنا ہواور میڈیکل وغیرہ کے طلبہ بھی اگر نیت رکھیں کہ اس علم کو حاصل کرکے رزق حلال کے حصول کاذریعہ بنائیں گے اور اپنے مسلمان بھائیوں اور انسانیت کی خدمت کریں گے تو ان کا جو وقت طلبِ علم میں صرف ہوگا وہ بھی ان شاء اللہ تعالی باعث اجر ہوگا۔

ظہر تک آرام یا کام کاج کرنے کے بعد مؤذن کی آواز سنیں تو اس کے ساتھ اذان کے الفاظ دہراتے جائیں، پھروہی دعا پڑھیں جو پہلے لکھی جاچکی ہے۔اس کے بعد چار رکعت سنت مؤکدہ اداکریں اور اذان واقامت کے درمیان دُعا میں مشغول رہیں یا تلاوت وذِکر کریں ․ظہر کی نمازباجماعت مسجد میں اداکریں‘ صف اول اور تکبیرئہ اولی کی فضیلت حاصل کریں،اس کے بعد دو رکعت سنت مؤکدہ پڑھیں۔

خواتین کے لیے افضل یہی ہے کہ وہ گھرپر نماز ادا کریں، نمازکو صحیح وقت پر اداکریں اور خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھیں۔انہی معمولات میں آپ نے ظہر کے بعد ایک وظیفہ کرنا ہے وظیفہ یہ ہے کہ آپ نے ایک گلاس پانی لینا ہے اور اس پر آپ نے سورہ یٰسین کو تین مرتبہ پڑھ لینا ہے

عمل کے اول و آخر درود پاک کو تین دفعہ پڑھ لینا ہے سورہ یٰسین کو تین دفعہ پڑھنےکے بعد یا حکیم کو 111 مرتبہ پڑھ لینا ہے اور پھر اس پانی کے گلاس پر دم کردینا ہے اور پھر اس پانی کو ڈھک کر رکھ دینا ہے اور اسی پانی سے افطار کرنا ہے۔انشاء اللہ بہت ہی فائدہ ہوگا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین