حضر ت علی ؓ کا فر مان ہے کہ فرض روزہ چھوڑنے والے کی کیا س ز ا ہے؟

حضر ت علی ؓ ہی کا فر مان ہے کہ جس شخص نے ایک فرض روزہ چھوڑ دیا رمضان کو رمضان کیوں کہتے ہیں رمضان کا مطلب ہے ج ل جا نا کسی چیز کا ج ل جا نا نیک لوگ ایک نماز پڑھتے ہیں کب؟ جب اونٹ کے پاؤں جل نے لگیں۔ اونٹ کے بچے کے پاؤں جب جل نے لگیں تو رمضان میں ج ل جا نا اس کا روزے سے کیا تعلق ہے؟

اس کا روزے سے تعلق یہ ہے کہ تین سو ساٹھ دن سال میں ہو تے ہیں چاند کے لحاظ سے تین سو تیس دن کے گ ن ا ہ اللہ رمضان کے روزوں میں ہر روز میرے آپ کے گ ن ا ہ جل ا تا ہے جل ا تا ہے بھوک لگتی ہے ایک آ گ بنتی ہے پیاس لگتی ہے ایک آ گ بنتی ہے۔

ہماری لکڑی کی آ گ میں چیزیں جل تی ہیں اور ہماری بھوک کی آ گ میں گ ن ا ہ جل تے ہیں اور انیتیسویں روزے اللہ سارے گ ن ا ہ وں کو ج لا کر روزہ والا یا روزے والی کو ایسے پاک کر دیت اہے جیسے آج ماں کے پیٹ سے نکلا ہو ایسے ان کو خوبصورت کر دیتا ہے۔ حج کا مہینہ آیا اعمال اسی طرح ہیں رمضان کا مہینہ آیا تو میرے نبی کا اعلان ہو گیا کہ ایک فرض ستر فرض کے بر ابر ہو جا تا ہے کمال ہے ۔

نفل فرض کے برابر ہو جا تا ہے فرض اور نفل میں فرق کیا ہے؟ حضر ت علی ہی کا فرمان ہے کہ جس شخص نے ایک فرض روزہ چھوڑ دیا پھر ق ی ا م ت تک اس کی قضا ء میں نفل روزے رکھتا رہا تو ایک روزے کا یہ سارے روزے بدلہ نہیں ہو سکتے۔

روزہ ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے ، اور یہ ایسی بدنی عبادت ہے جو پچھلی امتوں پر بھی فرض تھی ، اس عبادت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کی برکت سے نفسانی خواہشات کا زور ٹوٹتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ہر عاقل وبالغ مسلمان مرد وعورت پر رمضان المبارک کے روزے فرض فرمائے ہیں ، اور یہ وہ بابرکت فریضہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف منسوب فرمایا ہے اور قیامت کے دن حق تعالیٰ اس کا بدلہ اور اجر وثواب بغیر کسی واسطہ کے بذاتِ خود روزہ دار کو عنایت فرمائیں گے ،

چنانچہ حدیث قدسی میں ارشاد ہے :ویسے تو نمازروزہ اور دیگر سب عبادات اللہ تعالیٰ کی ہیں اور اسی کو راضی اور خوش کرنے کے لئے سب عبادات کی جاتی ہیں ، مگر روزہ ایک عجیب خصوصیت اپنے اندر رکھتا ہے۔

وہ ریا اور دکھلاوے سے بالکل دور ، غیروں کی نظر سے پوشیدہ اور بندہ اور معبود کے درمیان ایک راز ہے ، یہاں تک کہ روزہ دار اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو صحیح طورپر اس کا علم بھی نہیں ہوتا، کیونکہ روزہ کی کوئی ظاہری صورت اور محسوس علامت نہیں ہوتی جس کی وجہ سے دیکھنے والوں کو اس کا علم ہوسکے ۔

اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ اور ثواب دینے میں بھی خصوصی اور رازدارانہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ براہِ راست بغیر کسی واسطہ کے روزہ دار کو اس کا بدلہ عطافرمائیں گے اور فرشتوں کو بھی اس کی اطلاع نہیں ہوگی ۔