دس غلط فہمیاں جو اکثر مردو خواتین رمضان میں سمجھتے ہیں۔

رمضان المبارک سے متعلق احکام ومسائل جستہ جستہ قسطوں کی شکل میں آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرتا رہوں گا، ان شاء اللہ ۔ان میں تقریبا رمضان المبارک کے اکثر احکام ومسائل آجائیں گے ۔ بروقت پوائنٹ کی شکل میں رمضان سے متعلق چند غلط فہمیوں کا ازالہ کردیتا ہوں تاکہ ان باتوں کی حقیقت ہمیں پہلے سے معلوم رہے اور اپنے علاوہ دوسروں کو بھی ان سے آگاہ کریں گے ۔

پہلی بات یہ ذہن نشیں رہے کہ رمضان کا استقبال کرنے کی کوئی مخصوص دعا یا کوئی مخصوص طریقہ نہیں ہے اور نہ ہی استقبال رمضان میں اس سے ایک دو دن پہلے روزہ رکھنا ثابت ہے بلکہ ممانعت کی حدیث آئی ہے ۔رمضان کا چاند دیکھنا ہر ایک کو ضروری نہیں ہے ،چند نے دیکھ لیا تو کافی ہے ،اسی طرح بااعتماد خبروں کے ذریعہ رمضان کے چاند کا ثبوت ملنے پر روزہ رکھا جائے گا۔

لوگوں کے اندر یہ غلط فہمی ہے کہ روزہ رکھنے کی کوئی مخصوص دعا ہے جبکہ ایسی کوئی بات نہیں بلکہ روزہ رکھنے کے لئے صرف نیت کی ضرورت ہےجوسحری کھانے سے پہلے پہلے کسی بھی وقت کرسکتے ہیں اور سحری کھانا مسنون ہے ۔بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ روزہ کی حالت میں احتلام ہونے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے ۔

اس وجہ سے اگر کسی کو دن میں احتلام ہوجائے تو اپنا روزہ توڑ لیتا ہے جو کہ بہت بڑی غلطی ہے ۔ احتلام سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ احتلام ہونے پہ غسل کرلے بس۔بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ جنابت یعنی ناپاکی کی حالت میں سحری نہیں کھائی جاتی ۔ یہ بھی غلط ہے ۔ ناپاکی کی حالت میں بھی سحری کھاسکتے ہیں تاہم فجر سے پہلے غسل کرلے تاکہ ج م ا ع ت سے فجر کی نماز پڑھ سکے ۔روزے کی حالت میں بیوی سے ج م ا ع کرنا منع ہے۔

ہنسی مذاق کرنا، بوسہ لینا بشرطیکہ ج م ا ع میں واقع ہونے کا خطرہ نہ ہوتو جائز ہے ۔ رات میں بیوی سے ج م ا ع کرسکتے ہیں۔روزے کی حالت میں عورت اپنے بچے کو دودھ پلاسکتی ہے اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا ہے ۔حاملہ اور دودھ پلانے عورتوں کو روزہ رکھنےسے بچے کو یا خود کونقصان نہ ہو تو وہ روزہ بھی رکھ سکتی ہیں۔

بغیر نماز ادا کئے بھوک پیاس برداشت کرنے والے سمجھتےہیں ہمارا بھی روزہ صحیح ہے جبکہ نماز کی ادائیگی نہ کرنے کا کوئی عمل قبول نہیں ہوگا۔ ہاں بغیر تراویح پڑھے روزہ درست ہے مگر چونکہ رمضان میں قیام اللیل کا ثواب بہت ہی زیادہ ہے اس لئے تراویح کا بھی خاص اہتمام کرنا چاہئے۔

رمضان میں اگر کوئی شادی کرنا چاہئےتو کوئی حرج نہیں ،بحالت روزہ بیوی سے مباشرت منع ہے ،رات میں اجازت ہے۔روزہ میں بغیر طاقت والا انجکش،کان اور آنکھ کا قطرہ استعمال کرسکتے ہیں اسی طرح کم اثروالا پیسٹ بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ یہ عمل رات تک مؤخر کرلے تو بہتر ہےالبتہ ناک کے قطرہ کے متعلق اختلاف ہے اسے بھی رات تک مؤخرکرلیا جائے تو زیادہ بہترہے۔

روزے کی حالت میں اجنبی لڑکی سے بات کرلی یا فلم دیکھ لیا، گانا سن لیا، تاش کھیل لیا یا کرکٹ وغیرہ میں وقت ضائع کردیا تو ان باتوں سے روزہ نہیں ٹوٹتا مگر اجنبی لڑکی سے بات کرنا، فلم دیکھنااور گانا سنناحرام ہے اور یہ نہ صرف روزے کی حالت میں منع ہیں بلکہ عام دنوں میں بھی منع ہیں اور وقت کو ضائع کرنے والے کاموں مثلا تاش اور کرکٹ وغیرہ سے بچنا بہتر ہے

تاکہ فرائض وواجبات کی ادائیگی میں کوتاہی نہ ہو۔ اگر یہ کام شرط والا ہو تو حرام ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین