بغیر تراویح پڑھے روزہ رکھنا کیسا ہے ؟

تراویح کے بغیر روزہ رکھنا کیسا ہے ؟روزہ الگ عبادت ہے اور تراویح مستقل الگ عبادت ہے؛ لہذا اگر کسی نے روزہ رکھا اور تراویح ادا نہیں کی تو اس کا روزہ تو ادا ہوجائے گا، لیکن بلا عذر تراویح چھوڑنے کی وجہ سے گناہ گا رہوگا۔کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تراویح پڑھانے والا اگر روزہ نہ رکھے تو کیا وہ تراویح پڑھا سکتا ہے؟ روزہ نہ رکھنا اگر مجبوری کی وجہ سے ہو تو کیا حکم ہے؟ اگر بغیر مجبوری کے ہو تو کیا حکم ہے؟

تراویح پڑھانے والا اگر کسی عذر شرعی ( مثلاً سفر یا مرض وغیرہ ) کی وجہ سے روزہ نہ رکھے تو اس کے تراویح پڑھانے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر وہ بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ نہ رکھتا ہو تو شریعت کی نظر میں فاسق ہونے کی وجہ سے وہ کسی بھی قسم کی نماز کی امامت کا اہل نہیں ہے، لہٰذا ایسا شخص جب تک توبہ کرکے روزہ رکھنا شروع نہ کرلے ایسے شخص کو امام بناکر اس کے پیچھے تراویح کی نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔

بغیر کسی شرعی عذر کے پورا رمضان ہی نمازتراویح کی ادائيگي نہ کرنے والے کا حکم کیا ہے ، اورکیا وہ گنہگارہوگا ؟ مسلمان اگر نماز تراویح کی ادائيگي نہ کرے تووہ گنہگار نہيں ہوتا چاہے وہ کسی عذر یا بغیر عذر کے ترک کرتا ہو کیونکہ نماز تراویح فرض و واجب نہيں بلکہ سنت مؤکدہ ہیں جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کیا اوراس پر ہمیشگی کی ہے اورمندرجہ ذیل قول میں مسلمانوں کو بھی اس پر عمل کرنے کا رغبت دلائي ہے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جس نے بھی رمضان المبارک میں ایمان اوراجروثواب کی نیت سے قیام کیا اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔لھذا کسی بھی مسلمان کے لائق نہيں کہ نماز تراویح ادا نہ کرے ، بلکہ اگر وہ امام کے ساتھ مسجد میں ادا نہيں کرسکتا تو اسے چاہیے کہ وہ گھر میں نماز تراویح ادا کرے ، اورپھر اگر وہ سنت کے مطابق گیارہ رکعت نہيں ادا کرسکتا تو آسانی سے جتنی رکعتیں ادا کرسکتا ہے چاہے وہ دو رکعت ہی پڑھے ادا کرنی چاہیيں

اور آخر میں وتر ادا کرے ۔قبولیت کا علم تو اﷲ تعالیٰ کو ہے ۔فقہی گویا قانونی لحاظ سے نماز تراویح کو جائز کہا جائے گا۔ کیونکہ نماز تراویح کے جواز کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں ، مگر بلا عذر رمضان کا روزہ چھوڑنا ایسا بڑا گناہ ہے کہ اس کی بناء پر تراویح کا ثواب بھی سوخت ہوجائے تو تعجب نہیں ۔

آنحضرتﷺکا ارشاد ہے من افطر یوما من رمضان میں غیر رخصۃ ولا مرض لم یقض عنہ صو الدھر کلہ وان صامہ یعنی جس شخص نے کسی ایسے عذر کے بغیر جو شرعاً معتبر ہو ۔ مثلاًمسافر ہو یا بیمار ہو رمضان شریف کے کسی ایک دن کا روزہ نہ رکھا تو اگر اب عمر بھی روزہ رکھتا رہے تب بھی اس فضیلت کی تلافی نہیں کر سکتا جو ایک دن کا روزہ چھوڑنے سے فوت ہوچکی ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Leave a Comment