سحری کے وقت اگر اذان آجائے ختم ہونے تک کھانا پینا جائز ہے

سحری کے وقت میں گنجائش رکھی گئی ہے جس کا پتا ہمیں اس حدیث مبارکہ میں ملتا ہے کہ آپ ؐ نے فرمایا’’ تم میں کوئی شخص جب اذان کی آواز سنے اور اس وقت برتن ابھی اس کے ہاتھ میں ہو تو وہ برتن کو اپنے ہاتھ سے نہ رکھے جب تک کہ وہ اپنی حاجت پوری نہ کر لے۔ نبی کریم ؐ کے اس فرمان کے بارے میں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے

کہ آپ ؐ کے زمانے میں سحری کے وقت نقارے اور سائرن نہیں بجتے تھے بلکہ لوگوں کو اذان کی آواز سن کر یہ معلوم ہو جاتا تھا کہ سحری کا وقت ختم ہو گیا ہے ۔ جس طرح سحری کھانا باعثِ حصولِ برکت و رحمت ہے۔ اسی طرح ماہ مبارک، ماہ مقدس رمضانِ کریم میں مومن کا روزہ افطار کرنا اور دوسروں کا روزہ افطار کروانا بھی غیر معمولی اجر و ثواب اور فضیلت کا حامل ہے ۔

ترمذی کی ایک حدیث مبارکہ کے مطابق’’ افطار میں جلدی کرنے والے اللہ کو محبوب ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ مجھے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ پسند وہ ہیں

جو افطار میں جلدی کرنے والے ہیں‘‘ روزہ کھولنے کے صحیح وقت کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ جب رات اس طرف آنی شروع ہو اور دن اس طرف پلٹنا شروع ہو اور سورج ڈوب جائے تو روزہ دار کے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا ۔(متفق علیہ) افطار کے لیے افضل چیز کھجور ہے ۔ حدیث مبارکہ ہے کہ ’’ جب تم میں سے کوئی شخص روزہ افطار کرے تو اسے چاہیے کہ کھجور سے افطار کرے

کیونکہ اس میں برکت ہوتی ہے اگر کھجور نہ ملے تو اسے چاہیے کہ پانی سے افطار کرے کیونکہ وہ پاک ہے ۔( احمد ، ترمذی ، دائود، ابن ماجہ )رسول بر حق حضرت محمد ؐ کا قاعدہ یہ تھا

کہ آپ ؐ پہلے روزہ افطار کرتے تھے اور پھر نماز پڑھتے تھے ۔ افطار میں آپ کا دستور یہ تھا کہ آپ ؐ تازہ کھجور سے افطار کرتے تھے اگر کھجور نہ ملتی تو پھر چھوہاروں سے روزہ کھولتے تھے اور اگر کبھی اتفاق سے وہ بھی نہ ہوتے تو پانی کے ایک دو گھونٹ پی کر روزہ افطار فرماتے تھے ۔

حضرت ابو ہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ؐ نے فرمایا کہ یہ دین نمایاں اور غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ افطار کرنے میں تاخیر کرتے ہیں ۔روزہ افطار کروانے کا اجر و ثواب اور فضیلت اس قدر زیادہ ہےکہ حدیث مبارکہ کے الفاظ کے مطابق جہنم کی آگ سے نجات کا آسان ترین ذریعہ ہی اس عملِ خیر کو قرار دے دیا گیا ہے ۔

حدیث مبارکہ کے الفاظ ہیں کہ : جس نے رمضان میں کسی روزہ دار کو افطار کرایا تو یہ اس کے گن اہوں کی بخشش اور اس کی گردن کو آگ سے چھڑانے کا ذریعہ ہو گا اور اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا اس روزہ دار کو روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا بغیر اس کے کہ روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی ہو ۔

Leave a Comment