امام علی ؑ نے فر ما یا کہ رمضان میں یہ کام ضرور کر نا

امام علی ؑ کی خدمت میں ایک شخص آیا اور عرض کرنے لگا یا علی ؑ رمضان میں وہ کون سا کام ہے جو کر نا سب سے ضروری ہے۔ بس یہ کہنا تھا۔ تو امام علی ؑ نے فر ما یا اے شخص ! یا د رکھنا اللہ تعالیٰ نے رمضان کے روزے انسانوں پر اس لیے واجب کیے تا کہ انسان اپنی نیت کو صاف کر سکے ۔

اپنے نفس کی اصلاح کر سکیں اپنے وجود کو اپنی خواہشات سے ہٹا کر اپنے آپ کو آ خ رت کی بھلائی کی طرف لگا سکیں اپنے آپ کو ویسا بنا سکیں کہ جیسا اللہ اسے دیکھنا چاہتا ہے یاد رکھنا رمضان انسان کے نفس پاک کرنے کے لیے آتا ہے ۔

صرف انسان کو بھوکا رکھنے کے لیے نہیں اللہ اپنے بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ روزہ رکھنے کے بعد وہ بار بار اس بات کو مان لیں کہ کو ئی ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے جو اس پوری کا ئنات کا مالک و خالق ہے جو اس انسان کو بھی دیکھ رہا ہے تبھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے یہ چاہتا ہے کہ روزہ رکھ کے انسان اگر ان کی آنکھیں نا محرم کو دیکھنے کی عادت رکھتی ہیں

تو اپنی آنکھوں سے کہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے اگر اس کے کان غلط آوازیں سننے کے عادی ہیں تو اپنے کانوں سے کہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔

اگر اس کی زبان انسانوں کی غیبت اور دل دکھانے کی عادت رکھتی ہے تو اپنی زبان سے کہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ اگر اس کا پیٹ رزقِ ح رام کھانے کا عادی بن چکا ہے تو اپنے پیٹ سے کہے کہ یہ رزق اللہ کا ہے اور اس کا حساب و کتاب روزِ محشر ہو گا اگر اس کی نیت انسانوں کے لیے بد ہو تی ہے تو اپنی نیت کو پاک رکھے اور بار بار اپنے آپ سے سوال کر تا رہے۔

کہ رمضان میرے وجود کو پاک کرنے کے لیے آیا ہے صرف مجھے بھوکا رکھنے کے لیے نہیں ہے اے شخص اگر رمضان میں تیس دن انسان اپنی نیت صاف کرنے کی کوشش کر ے تو اللہ تعالیٰ عید کے دن اپنے فرشتوں کو بلا کے یہ فر ما تے ہیں کہ پورا سال شی طان اس کو بھٹکاتا رہا

لیکن ایک ماہ میں یہ میرا بندہ ویسا ہو گیا جیسا میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں۔