عورت کا اعتکاف میں بیٹھنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟ حضرت محمد ﷺ نے فر ما یا

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: اللہ کے یہاں مبغوض ترین چیز بدعت ہے، اور گھروں کی مسجدوں میں اعتکاف کرنا بھی بدعت میں سے ہے۔مذکورہ اثر کا محمل اور مطلب بیان کرنے سے پہلے متعلقہ مسئلہ کی کچھ تفصیل ذیل میں ملاحظہ مردوں کے لیے ہر قسم کے اعتکاف کے لیے مسجد شرعی کا ہونا ضروری ہے، اگر مرد گھر میں اعتکاف کرے گا تو اس کا اعتکاف درست نہیں ہوگا، اس پر تمام ائمہ مجتہدین کا اتفاق ہے،

البتہ بعض کتب میں محمد بن عمر لبابہ مالکی کا اس میں اختلاف نقل کیا گیا ہے کہ ان کے نزدیک ہر جگہ اعتکاف درست ہے، یہ شاذ قول ہے جو کہ قابلِ اعتبار نہیں ہے۔

باقی ائمہ مجتہدین میں اس بات پر اتفاق کے بعد کہ مردوں کے اعتکاف کے درست ہونے کے لیے مسجد کا ہونا شرط ہے، اس میں کچھ اختلاف ہے کہ مسجد سے مراد کون سی مسجد ہے؟ جو ایک مستقل بحث ہے، جس کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں۔ عورتوں کے اعتکاف کی جگہ میں ائمہ کی آراء مختلف ہیں: امام مالک ، اور امام شافعی رحمہ ک اللہ کے نزدیک عورت بھی اعتکاف کے باب میں مرد ہی کی طرح ہے، اس کا اعتکاف بھی مسجد ہی میں ہوگا،

گھروں میں ان کے لیے اعتکاف کرنا جائز نہیں ہے، اور ان کا استدلال مذکورہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اثر سے ہے، جب کہ فقہاءِ احناف رحمہم اللہ کے نزدیک عورتوں کے لیے گھر کی مسجد میں اعتکاف کرنا نہ صرف جائز ہے بلکہ یہی بہتر ہے۔

کہ گھروں کی مسجد میں اعتکاف کریں ، اور گھر کی مسجد سے مراد وہ جگہ ہے جسے گھر میں نماز ، ذکر، تلاوت اور دیگر عبادات کے لیے خاص اور متعین کرلیا گیا ہو، باقی اگر عورت مسجدِ شرعی میں اعتکاف کرے (جب کہ پردے اور دیگر شرعی احکامات کی مکمل رعایت ہو) تو اعتکاف تو ہوجائے گا،

لیکن یہ مکروہ تنزیہی ہے۔البتہ موجودہ زمانہ فتنہ وفساد کا زمانہ ہے، مساجد میں مردوں سے اختلاط کا قوی اندیشہ ہے، بےحیائی بھی عام ہے ؛ اس لیے موجودہ زمانہ میں جس طرح مسجد میں عورتوں کا نماز کے لیے آنا مکروہ تحریمی ہے، اسی طرح مسجد میں اعتکاف کرنا بھی مکروہ تحریمی ہے۔

احناف رحمہم اللہ کا استدلال یہ ہے کہ: اعتکاف ایسی عبادت ہے جو مسجد کے ساتھ خاص ہے ، اور عورتوں کے لیے گھر کی مسجد بالکل اسی طرح ہے جس طرح مردوں کے لیے مسجد کا حکم ہے۔

یہی وجہ ہے مسجد میں آپ ﷺ کی موجودگی میں جماعت کے ثواب کی فضیلت کے باوجود عورتوں کو گھر میں نماز پڑھنے کو پسند فرمایا گیا، اور ان کی گھر کی مسجد کو نماز میں مسجد جماعت کا درجہ دیا گیا ، اور ان کی نماز کو گھر کے اندر والے حصے میں پڑھنے کو افضل بتایا گیا ، حضرت امّ حمید رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کا شوق ہے،

آپ ﷺ نے فرمایا:تمہارا شوق (اور دینی جذبہ) بہت اچھا ہے، مگر تمہاری نماز اندرونی کوٹھی میں کمرے کی نماز سے بہتر ہے، اور کمرے کی نماز گھر کے احاطے کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے احاطے کی نماز محلے کی مسجد سے بہتر ہے، اور محلے کی مسجد کی نماز میری مسجد (مسجدِ نبوی) کی نماز سے بہتر ہے۔

Leave a Comment