رمضان کے روزہ میں اگر عورت کو حیض ہوجائے تو؟

اگر روزہ کی حالت میں دن کے کسی بھی حصہ میں حیض شروع ہوجائے تو اس روزہ کو توڑ دینا جائز ہے۔روزہ کی حالت میں ماہواری شروع ہوجانے سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، اگرچہ غروب آفتاب سے چند لمحہ قبل ہی ماہواری کا خ ون آنا شروع ہوا۔ اس کی قضاء واجب ہوگی۔ روزہ فاسد ہونے کے بعد عورت کے لیے کھانا پینا جائز ہے،

البتہ رمضان المبارک کے احترام میں کھلے عام کھانے پینے سے اجتناب کیا جائے گا۔اگر حیض مغرب سے قبل آئے تو روزہ باطل ہوگا اور اس کی قضاء ہوگي لیکن اگر مغرب کے بعد حیض آنے کی صورت میں روزہ صحیح اور مکمل ہے، اس قضاء نہيں ہے۔

حالتِ حیض و نفاس میں عورت روزہ نہیں رکھے گی اور حیض و نفاس کی مدت ختم ہو جانے کے بعد اس پر ان دنوں کے روزوں کی قضاء واجب ہے جیسا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں حالتِ حیض سے پاک ہونے پر روزوں کا حکم فرماتے۔ترمذی، الجامع الصحيح، ابواب الصوم، باب ما جاء فی قضاء الحائض الصيام دون الصلاة، 2 : 145، رقم :78

اسلام میں عورتوں کا اپنا ایک مقام ومرتبہ ہے ،کاروبار حیات کی متعدد ذمہ داریاں ان کے سپرد کی گئی ہیں ۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خصوصی طور پر ان کو اپنی تعلیمات سے نوازتے تھے ،ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کرتے تھے ۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ ہر زمانے میں خواتین لازمی توجہ کی مستحق ہیں۔

خصوصاً موجودہ دور میں جب کہ مسلم خواتین سے ان کی عزت و ناموس سلب کرنے اور ان کو اپنے مقام ومرتبہ سے گرانے کے لیے مخصوص طریقے سے یلغار کرکے ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے اس لیے ان خطرات سے آگاہ کرنا اور ان سے نپٹنے کے لیے راہ نجات کی نشاندھی کرنا بے حد ضروری ہے۔

امت مسلمہ کا روشن مستقبل اور اسلام کا عروج وغلبہ اس بات پر موقوف ہیں کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو ایمان و اطاعت کی فضاء میں پروان چڑھے ،تقو’ی و اخلاق فاضلہ کی حامل ہو،پاکیزگی وعفت کے جوہر سے آراستہ اور قوت وشجاعت سے بہرہ ور ہو ،اور یہ چیز اس وقت تک حاصل نھیں ہو سکتی جب تک کہ معاشرے میں ایسے مسلمان مرد و عورت نہ پیدا ہوجائیں جو صحیح معنوں میں مسلمان کہلائے جاسکیں۔

ماہ رمضان کے روزے ہر مسلمان مردو عورت پر فرض ہیں ،روزہ کو اسلام میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت حاصل ہے ۔جیسا کہ اللہ تعالی کا فرمان : یاایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون” (البقرہ :183)۔

ایے ایمان والو : تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ کو اسلام کے ارکان خمسہ میں سے ایک اہم رکن قرار دیا ،

جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے” بني الإسلام على خمس شهادة أن لا إله إلا الله وأن محمدا عبده ورسوله،واقام الصلاة،وإيتاء الزكاة ،والحج،وصوم رمضان”(رواه البخاري،كتاب الإيمان ،باب دعاؤكم إيمانكم حدیث نمبر :8)۔