رمضان کا سب سے بڑا عمل م۔و ت ایسی کہ کبھی حساب ہی نہ ہوگا عام مسلمانوں کے لیے بھی ساری کائنات دعا کرے

رمضان کی عظمت وفضیلت یہ ہے کہ فرض ستر فرضو ں کے برابر ہوجاتاہے۔ اور نفل فرضوں کے برابر ہوجاتا ہے۔ اللہ جہن م کے دروازوں کو بند کردیتاہے۔ جنت کے دروازوں کو کھول دیتاہے۔ عرش اس کا پہلے آسمان پر آجاتا ہے۔ ش یطان سارے قید ہوجاتے ہیں۔

ساری کائنات سمندر کی مچھلیاں اور زمین کی چیونٹیاں ، روزہ رکھنے والو ں کے لیے دعاکرتی ہیں۔ جنت کو روزانہ روزے والوں کے لیے سجایا جاتا ہے۔ اور اللہ اس کہتا ہے میرے بندے آرہے ہیں تجھ میں ہمیشہ رہنے کے لیے۔

اللہ کی طرف سے چوبیس گھنٹے ایک اعلان ہوتا رہتا ہے کوئی بخشش مانگنے والا ، کوئی ت وبہ کرنے والا، کوئی معافی مانگنے والا، کوئی سائل جو بھی مانگے ۔ ایک فرشتہ اعلان کرتا ہے نیکی کرنے والے آگے بڑھ تجھے بشار ت دو۔ دوسرا فرشتہ اعلان کرتا ہے برائی کرنے والے بس کر اور واپس لوٹ جا۔

تو میرے نبی کا فرمان ہے کہ اگر لوگوں کے رمضان کے قیمت کا اندازہ ہوجائے تو یہ تمنا ء کرتے کہ سار ا سال رمضان ہوجائے۔ رمضان میں جو مرجائے اس کی بخشش ہوجاتی ہے۔

اس کا حساب نہیں ہوتا۔ تو کسی نے مجھ سے پوچھا بعد میں ہوتا ہے ۔ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کوئی ہماری طرح ہے اللہ تو رحیم وکریم ہے۔ ایک دفعہ چھوڑدیا توچھوڑدیا۔ تو یہ بہت مبارک مہینہ ہے۔ پہلی تیاری کیا ہے؟ کہ آج تک ہم سے جتنے خطائیں ہوئیں کوئی زبان کی ، کوئی آنکھوں کی، کوئی کانوں کی ، کوئی معاملات کی ، کوئی معاشرت کی، اس سب سے ہم آج پہلی رات ت وبہ کرلیں۔ دو بڑی مصیبتیں ایک غیبت اور ایک حسد۔ جتنے لوگ میری بات سن رہے ہیں۔

ہم اپنے رمضان کی ابتداء کریں ت وبہ کریں۔ دوسری تیاری یہ ہے کہ اپنے دل کو سب کی نفر ت سے صاف کرلے۔ میرے اللہ نے اپنے نبی سے کہا کہ میرے نبی آپ ان کے اوپر ٹھیکے دار نہیں ہیں۔ یہ میرا کام ہے بس آپ اپنا پیغام پہنچائیں ۔ تو آپ اس پیغام پہنچانے میں سامنے کون تھے ؟

کافر۔ اور آپ دیکھ رہے تھے ان کو ایمان نصیب نہیں ہوگا۔ پھر بھی آپ نے ابو جہل کی اتنی منتیں کیں۔ آپ ؐ نے کہا کہ میری امت کا فرعون ابوجہل ہے۔ اورموسی کے فرعوں سے بڑا فرعون ہے۔

اس امت ک فرعون نے مرتے وقت ت وبہ کی۔ لیکن اس امت کے فرعون نے کہا کہ گردن ذرا نیچے سے کاٹنا۔ تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ کسی سردا ر کی گردن ہے۔ آپ نے اس کے گھر کے اتنے چکر لگائے اور جانتے تھے کہ اس کے نصیب میں ہدایت نہیں ہے۔ اس نے کہا بس کردے ہم قیامت کے دن گواہی دے دیں گے ۔

کہ تونے اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ دوسرا کام یہ کرنا ہے کہ ہم نے اپنے دل کو اوروں کی نف رت سے صاف کرلیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اللہ ہمیں مع اف کردے ۔ تو ہم یہ دعاکریں کہ اللہ ہر کسی کو مع اف کردے ۔