روزے کی حالت میں کسی غیر عورت یا اپنی بیوی ننگا ستر دیکھ لے تو کیا روزہ ٹوٹ جا تا ہے؟

ایک سوال ہے کہ روزے کی حالت میں ایک خاتون اپنے بچے کو دودھ پلا رہی تھی اگر مرد کی اپنی بیوی یا غیر عورت کے یا اس کے جسم کی طرف نظر چلی جا تی ہے تو اس سے کیا روزے پر فرق پڑتا ہے روزہ ٹوٹ جا تا ہے یا روزہ رہ جا تا ہے براہ مہربانی میری رہنمائی فرما ئیں تو چلتے ہیں اس کے جواب کی طرف۔

جس شخص نے روزے کی حالت میں خاتون کے ستر کی طرف اسے اگرچہ روزہ نہیں ٹوٹتا چاہے وہ اس کی اپنی بیوی ہو یا غیر عورت ۔ روزہ توبا لکل ہو جا تا ہے لیکن اگر یہ غیر عورت ہے تو یہ گ ن ا ہ کبیر ہے کسی نا محرم عورت کی طرف دیکھنا اس کے جسم کی طرف دیکھنا اور ستر کی طرف دیکھنا اس سے بھی زیادہ گ ن ا ہ ہے۔

اس لیے انسان کو چاہیے کہ ایسے تمام معا ملات سے بچتا رہے کیونکہ روزے کا مقصد کھانے پینے کے علاوہ اپنے معاملات کے اندر بھی نظر کی حفاظت کر نا اپنی زبان کی حفاظت کر نا اپنے نفس کی حفاظت کر نا روزے کے معاملات میں برائی اور برے کاموں سے بچتے رہنا چاہیے یہ روزے کے فرائض میں شامل ہیں۔

اگر غلطی سے بھی نظر وہاں چلی بھی گئی ہے تو روزہ نہیں ٹوٹتا روزہ ہو جا ئے گا با قی جو اس بے ہودگی کی وجہ سے اس کو چاہیے کہ وہ اللہ رب العزت سے دعا ئیں کر یں معافی مانگتا رہے تا کہ اللہ رب العزت یا اللہ جو مجھ سے خطا ہو گئی ہے اس سے درگزر کیجئے اسے معاف کر دیجئے ۔

لیکن ا س سے روز ہ نہیں ٹوٹے گا۔ اور اس کو بھی خیال رکھنا چاہیے کہ کسی غیر عورت کی طرف نگاہ اُٹھا کر نہیں دیکھے۔ یہ یقینی بات ہے کہ خواتین کی طرف عام طور پر جبکہ بے پردہ خواتین کو خصوصی طور پر نظریں اٹھا کر دیکھنا حرام کا م ہے، جبکہ ماہ رمضان میں اس کی حرمت مزید شدید ہو جاتی ہے؛

کیونکہ فضیلت والی جگہ یا وقت میں گناہ کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے، ظر بے لگام چھوڑنے سے دل میں ایمان کمزور ہو جاتا ہے، روزے میں نقص اور اجر میں کمی پیدا ہوتی ہے، تاہم اس سے روزہ باطل نہیں ہوتا، چنانچہ اس گناہ کے مرتکب کو چاہیے کہ جلد از جلد اس گناہ سے توبہ کر لے۔شیخ ابن باز رحمہ اللہ کہتے ہیں:”خواتین کی طرف نظریں اٹھانا حرام ہے۔

اور اگر شہوت بھری نگاہوں سے دیکھا جائے تو اس کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے؛ کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ترجمہ: آپ مومنوں کو کہہ دیں کہ: اپنی نظریں جھکا کر رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ویسے بھی بے لگام نظر برائی اور بے حیائی کے کاموں میں ملوّث ہونے کا ذریعہ بنتی ہے، اس لیے آنکھوں کی حفاظت اور فتنوں سے دور رہنا واجب ہے،

لیکن جب تک منی خارج نہ ہو اس وقت تک روزہ باطل نہیں ہو گا، چنانچہ منی خارج ہوتے ہی روزہ باطل ہو جائے گا، اور اگر فرض روزے میں منی خارج ہو تو اس روزے کی قضا دینا واجب ہو گی”